Safety first, speed next.
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۳۵
سے گزرنا ہوتا ہے۔ تب وہ اس کپڑے کی صورت اختیار کرتی ہے جو جسم کو ڈھانپنے اور انسان کی تنہ ٹین کا ذریعہ بنے۔ مگر موجودہ زمانہ میں ہمارے درمیان ایسے رہنما اٹھے جو ملت کو بنانے کے لئے کسی مرحلہ اور تندرستی کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ ان کا خیال ہے کہ نعرہ لگاؤ اور ملت کی تعمیر کا گنبد اگلے دن کھڑا ہوا نظر آئے گا۔
۵ جون ۱۹۸۸ کو دوپہر بعد حیدر آباد سے محبوب نگر کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں ایک جگہ سڑک کے کنارے بورڈ لگا ہوا تھا کہ حفاظت پہلے اور رفتار پیچھے:
Safety first, speed next.
اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ آدمی اگر اپنے آپ میں گم ہو جائے تو وہ "اسپیڈ کو اہمیت دے گا۔ اور اگر وہ جانے کہ سڑک پر وہ تنہا نہیں ہے، بلکہ بہت سے دوسرے لوگ بھی یہاں اپنی اپنی دوڑ لگا رہے ہیں تو وہ سیفٹی کو سب سے زیادہ اہم سمجھے گا۔ یہی وسیع تر زندگی کا اصول بھی ہے سڑک کا وہی مسافر حفاظت کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچتا ہے جو دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا سفر جاری کرے۔ اسی طرح زندگی میں وہی شخص محفوظ رہ سکتا ہے جو دوسروں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھے اور دوسروں کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر طے کرے ۔ یہاں دوسرے کو فرسٹ بنانا پڑتا ہے اور اپنے آپ کو نیکٹ" اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اس دنیا میں اپنی مطلوبہ منزل پر بحفاظت پہنچ سکے۔
محبوب نگر میں دو پروگرام ہوئے۔ یہاں مدرسہ سراج العلوم مولانا امیر اللہ خاں کی زیرنگرانی چل رہا ہے۔ مجھے اس کی لائبریری اور اسٹاف کوارٹرس کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ سنگ بنیاد رکھنے سے پہلے ایک جلسہ ہوا جس میں دینی تعلیم اور مدارس عربیہ کی اہمیت پر تقریر کی گئی۔ اس موقع پر میں نے کہا کہ بعض لوگ ناسمجھی کی بنا پر عربی مدارس کا استخفاف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ ان مدارس میں تحفیظ قرآن کا شعبہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ پریس کے دور میں قرآن کے لاکھوں نسخے چھپ کر ہر جگہ پھیل چکے ہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کا حفظ غیر ضروری ہے۔
میں نے کہا کہ یہ حفاظت بالائے حفاظت کا معاملہ ہے۔ جیسے مولانا آزاد کی کتاب کے تئیس صفحے بیک وقت دو جگہ محفوظ کئے گئے ہیں، کلکتہ میں اور دہلی میں ۔ تاکہ ایک نسخہ اگر کسی وجہ سے ضائع ہو جائے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues