Al-Risala · August 1988 · page 42

سنارہ سکتا۔ یہ اپنی فطرت کے

الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۴۲

کو اس سے تسکین ملتی ہو کہ وہ اپنی غلطی کے لئے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرائیں ۔ جن کو اعتراف کے بجائے سرکشی میں لذت ملتی ہو۔ جو خیالی الفاظ میں لطف لیتے ہوں اور جن کو حقائق سے کوئی دلچسپی نہ ہو، ایسے لوگ الرسالہ سے مختلف مزاج رکھتے ہیں۔ وہ الرسالہ کی باتوں میں اپنی خوراک نہیں پا سکتے۔ الرسالہ صرف سنجیدہ اور حقیقت پسند لوگوں کی غذا ہے۔ اور ہمیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں اگر غیر سنجیدہ اور غیر حقیقت پسند لوگ الرسالہ میں اپنی غذا نہ پائیں۔ حیدر آباد میں ” باغ عامہ “ کی تقریر کے بعد ایک صاحب نے تحریری سوال کیا : ” دعوت کا میدان کیا صرف نظریاتی وفکری میدان ہی ہے یا میدانِ جنگ بھی۔ “ میں نے کہا کہ دعوت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ لوگوں کے اوپر تلوار زنی کریں۔ دعوت کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کو اپنے ساتھ جنت کا، ہم سفر بنائیں ۔ اس قسم کا کام ہمیشہ محبت کے ذریعہ ہونا ہے نہ کہ نفرت اور تشدد کے ذریعہ ۔

جناب احمد بختیار الدین صاحب نے اپنے ذاتی اہتمام کے تحت حیدر آباد کے تین پروگراموں کا ویڈیو کیسٹ تیار کرایا۔ موجودہ زمانہ میں ویڈیو کیسٹ کا طریقہ بہت عام ہورہا ہے۔ چنانچہ لوگ ہم سے بھی تقاضا کر رہے ہیں کہ جس طرح اس سے پہلے آڈیو کیسٹ تیار کرائے گئے تھے، اسی طرح ویڈیو کیسٹ بھی تیار کرائے جائیں۔

مسجد سلطان جہاں بیگم سے ملا ہوا جناب حسام الدین صاحب کا کارخانہ پروین پرنٹنگ ورکس ہے مسجد میں خطاب کے بعد حسام الدین صاحب اپنے کارخانہ میں لے گئے۔ اس کارخانہ میں رنگین ساڑیاں تیار کی جاتی ہیں۔ معلوم ہوا کہ بنی ہوئی ساڑھی بھونڈی وغیرہ سے آتی ہے۔ ابتداءً وہ صاف رنگ کی نہیں ہوتی۔ یہاں کارخانہ میں سب سے پہلے اسے سفید بنایا جاتا ہے۔ پھر مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے وہ رنگین چھپی ہوئی ساڑی کے مرحلہ تک پہنچتی ہے۔ یہاں تک کہ تہہ کر کے اس کو پلاسٹک کے تھیلے میں رکھ دیا جاتا ہے تاکہ بازار میں فروخت کے لئے بھیجا جاسکے۔ میں نے پوچھا کہ ابتدا سے آخر تک اس پر کتنے مراحل گزرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ تقریباً بارہ مرحلہ۔ اس سے پہلے کپاس کے مرحلہ سے بنی ہوئی ساڑی کے مرحلہ تک پہنچنے کے لئے بھی تقریباً اتنے ہی مراحل گزرتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ کپاس سے ساڑی بنانے کے لئے اس کو ۲۴ مرحلوں"

‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues

Printed page