Al-Risala · August 1988 · page 47

خبرنامه اسلامی مرکز ۴۲

الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۴۷

انڈیا میں چھپا تھا، اس کی نقل مساچوسٹس کی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی لائبریری کی طرف سے ڈاکٹر رائٹ کو بھیجی گئی تھی۔ اس کو دیکھنے کے بعد ڈاکٹر رائٹ نے ایک خط (۳ مئی ۱۹۸۸) صدر اسلامی مرکز کو بھیجا ہے اور الرسالہ انگریزی اور دوسری انگریزی کتابوں کو پڑھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا کے فضل سے الرسالہ کی آواز کس طرح مختلف ذرائع سے پھیل کر دور دور تک پہنچ رہی ہے۔

۱۰- ایک مقام کے بارہ میں معلوم ہوا کہ وہاں فرقہ وارانہ فساد کی صورت پیدا ہوگئی۔ ایک فرقہ جلوس کی صورت میں سڑک سے گزرتا ہوا دوسرے فرقہ کے محلہ میں پہنچا اور نامناسب نعرے لگانے لگا۔ اب دوسرے فرقہ کے لوگ مشتعل ہو کر چھتوں پر چڑھ گئے اور سنگباری کی صورت میں جواب دینا چاہتے تھے۔ اس موقع پر الرسالہ کے چند قاری سامنے آگئے ۔ انھوں نے اپنے فرقہ کے لوگوں کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر تم پتھر مارو گے تو مسئلہ تمہارا اور پولیس کا بن جائے گا۔ لیکن اگر تم خاموش ہو جاؤ تو مسئلہ پولیس کا اور جلوس والوں کا رہے گا۔ ان کی کوشش کامیاب ہوگئی اور لوگ چھتوں سے اتر گئے۔ اس کے بعد مسئلہ واقعہ پولیس کا اور جلوس کا بن گیا۔ پولیس نے جلوس سے آگے بڑھنے کے لیے کہا، جب وہ آگے نمیں بڑھے تو پولیس نے لاٹھی چارج کرکے جلوس والوں کو منتشر کیا۔ الرسالہ کے قارئین کو اسی طرح نازک مواقع پر سامنے آنا چاہیے اور الرسالہ کے اسلامی فکر کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرنا چاہیے ۔

۱۱- ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ کی ایک بہت انوکھی صفت ہے جو موجودہ زمانہ میں شاید ہی کسی پرچہ کو حاصل ہو۔ وہ یہ کہ الرسالہ جس کے ہاتھ میں پہنچ جاتا ہے وہ اس کو شروع سے آخر تک پڑھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کل انگریزی پرچہ India Today ٹاپ کا پرچہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر سروے سے پتہ چلا ہے کہ انڈیا ٹوڈے کے خریدار بمشکل اس کا ۱۵ فی صد حصہ پڑھتے ہیں۔ جب کہ الرسالہ کے جتنے قاری ہیں نے دیکھے سب کا یہ حال ہے کہ وہ اس کو پورا کا پورا پڑھتے ہیں۔ بلکہ بہت سے تو ایک رسالہ کو ایک سے زیادہ بار پڑھتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے الرسالہ کو یہ مقبولیت عطا فرمائی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues

Printed page