خبرنامه اسلامی مرکز ۴۲
الرسالہ، اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۴۶
کے دو دوست بھی تھے وہ میرے لیے بالکل اجنبی تھے اور الرسالہ کے لیے بھی اجنبی۔ وہ الرسالہ کو دیکھ کر بولے یہ کون سا پرچہ ہے۔ میں نے اس کا مختصر تعارف کروایا اور یہ کہا کہ یہ عام نوعیت کا پرچہ نہیں ہے بلکہ اس پرچہ میں ایک خصوصیت ہے وہ یہ کہ اس میں تقریباً ایک ایک صفحہ کے مضامین ہوتے ہیں جس کو ہر شخص شوق سے اور جلدی پڑھ لیتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے، ان کو صفحہ نمبر 4 کا مضمون "حد کو پار نہ کیجئے" نکال کر دیا کہ اس کو پڑھ لیجئے مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ انھوں نے پڑھا اور الرسالہ کے مستقل قاریوں میں اپنا نام لکھوا دیا (محمد وحید الدین، حیدر آباد)
۷- الرسالہ ۱۹۷۶ء سے یہ مہم چلا رہا ہے کہ مسلمان احتجاج اور مطالبہ کا طریقہ چھوڑیں اور مثبت انداز اختیار کریں ۔ خدا کے فضل سے اب اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اخبار ہجوم (۲۹ اپریل۔ ۵ مئی ۱۹۸۸ء) نے ایک مشہور جماعت کے اجلاس کی رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے "مطالباتی سیاست کے گھروندے سے نکلنے کی کوشش" رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر صاحب نے "واضح طور پر کہا کہ ہماری جماعت اب تک مطالباتی سیاست پر عمل کر رہی تھی۔ ۔۔۔۔ انھوں نے تالیوں کی گونج میں کہا کہ اب ہم پٹری بدل رہے ہیں اور مطالباتی سیاست کے گھروندے سے نکل رہے ہیں۔ اب ہم مانگنے کے بجائے یہ تلاش و جستجو کر رہے ہیں کہ اسلام اپنے دامن میں ملک کے انسانوں کو دینے کے لیے کیا رکھتا ہے" الرسالہ کی مہم اللہ کے فضل سے اس حد تک مؤثر ہوئی ہے کہ اب کچھ لوگ اعلان کے ساتھ اپنی پٹری بدل رہے ہیں اور کچھ لوگ اعلان کے بغیر۔
۸۔ جون ۱۹۸۸ کے پہلے ہفتہ میں صدر اسلامی مرکز نے حیدر آباد، محبوب نگر اور بمبئی کا دورہ کیا تینوں مقامات پر ملاقاتوں اور خطابات کے پروگرام ہوئے۔ تفصیلی روداد ان شاء اللہ سفر نامہ کے ساتھ شائع ہوگی۔
۹۔ ڈاکٹر تھیو ڈور رائٹ (Dr. Theodore P. Wright Jr) امریکہ کی اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے مسلم اقلیت کے موضوعات پر کئی مقالے لکھے ہیں۔ صدر اسلامی مرکز کا مقالہ جو ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں ٹائمس آف
‹ Previous page Next page › Contents of August 1988 All issues