چھوٹا زیادہ بڑا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۷
دنیا اور آخرت
ایک دوکاندار نے کہا کہ میں ہر روز اپنی دکان کھولتا ہوں ۔ حالاں کہ میں جانتا ہوں کہ ایک دن دکان کھولنے کی قیمت ایک سو روپیہ ہے ۔ ملازم کی تنخواہ ، بجلی کا بل اور دوسرے مختلف اخراجات ۔ پھر میں کیوں دکان کھولتا ہوں اور کیوں ہر روز ایک سو روپیہ کا خرچ برداشت کرتا ہوں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ میں ایک سو روپیہ خرچ کر کے ایک ہزار روپیہ کماؤں گا۔ اگر مجھے یہ یقین نہ ہو تو میں کبھی سو روپیہ روز خرچ کرنے کی ہمت نہ کروں ۔
یہی زندگی کا اصول ہے ۔ آدمی اسی وقت کسی چیز میں اپنی طاقت خرچ کرتا ہے جب کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ میں جتنا خرچ کروں گا اس سے زیادہ میں حاصل کروں گا۔ یہ یقین نہ ہو تو زندگی کی تمام سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ جائیں۔
دنیا کے معاملہ میں جس طرح لوگ خرچ کرتے ہیں اسی طرح وہ آخرت کے معاملہ میں خرچ نہیں کرتے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے معاملہ میں نتیجہ فوراً سامنے آجاتا ہے۔ یہاں خرچ کرتے ہوئے آدمی کو یقین رہتا ہے کہ وہ ”ایک سو“ خرچ کر کے ”ایک ہزار“ پا سکتا ہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں نتیجہ فوراً سامنے نہیں آتا۔ اس لیے آدمی یقین نہیں کر پاتا کہ وہ جو کچھ خرچ کرے گا وہ اضافہ کے ساتھ اس کی طرف لوٹے گا ۔ دنیا کے معاملہ میں خرچ کو وہ پیسہ لگانا (Investment) سمجھتا ہے اور آخرت کے معاملہ میں خرچ کو پیسہ برباد کرنا ۔
آخرت کے معاملہ میں خرچ کا ”ریٹرن“ اگر چہ اپنی پوری شکل میں اگلی دنیا میں ملے گا مگر اس کا ایک حصہ آدمی کو اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔
یہ دنیوی ریٹرن وہ ہے جو آدمی کو نفسیاتی صورت میں حاصل ہوتا ہے ۔ ایسے آدمی کو شکر ، قناعت اور اعتماد کی دولت ملتی ہے ۔ وہ اعلیٰ ربانی احساسات کا تجربہ کرتا ہے ۔ وہ بندوں کو دے کر خدا سے پاتا ہے ۔ وہ مادی انفاق کر کے روحانی سرمایہ حاصل کرتا ہے ۔ وہ کھونے میں پانے کی لذت کا تجربہ کرتا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ اس آخرت کو حسّی طور پر آج ہی کے دن پا لیتا ہے جس کو عملی طور پر وہ کل کے دن پائے گا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues