Al-Risala · September 1988 · page 8

دولت کی بجلی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۸

دولت کی بجلی

ایک شخص معمولی حیثیت کا تھا۔ پھر وہ ترقی کر کے دولت مند بن گیا۔ جب وہ معمولی حیثیت کا تھا تو زیادہ خوش رہتا تھا۔ دولت آنے کے بعد وہ پریشان رہنے لگا۔ اس کے ایک پرانے دوست نے پوچھا، یہ تمہارا کیا حال ہو گیا ہے۔ پہلے تم ہنستے بولتے تھے۔ ہم لوگوں کے ساتھ کافی وقت گزارتے تھے۔ اب تم اداس نظر آنے لگے ہو۔ اس نے جواب دیا میرے اوپر دولت کی بجلی گری ہے" دولت نے مجھ کو نئے نئے مسائل میں الجھا دیا ہے۔ ارے بچے ہمارے پاس تھے، ہم ان کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ آج ہر بچہ ہم سے دور ہے۔ کوئی یورپ، امریکہ پڑھنے گیا ہوا ہے۔ کوئی دور کے کسی مقام پر ملازم ہے۔ جن بچوں کو پہلے ہم پہلے ہم میاں بیوی دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ آج ہم ان کے سایہ کے لیے بھی ترستے ہیں۔ بھیڑوں کا فارم ہے تو خیال لگا ہوا ہے کہ اتنی قیمتی بھیڑیں ہیں، پتہ نہیں ان کا کیا ہوا۔ ٹرک چل رہے ہیں تو اس کی فکر ہے کہ کہیں ایکسیڈنٹ نہ ہو گیا ہو۔ دکانیں ہیں تو ان کی پریشانی کہ ملازم کہیں گڑ بڑ نہ کر رہے ہوں۔ غرض جتنی زیادہ دولت ہے اتنی ہی زیادہ فکر ہے۔ سیل ٹیکس، انکم ٹیکس اور طرح طرح کے قانونی جھگڑے اس کے علاوہ ہیں۔ زندگی لطف سے خالی ہو کر بس مسائل اور پیچیدگیوں کا مجموعہ بن گئی ہے۔ جو دولت آدمی کو سکون نہ دے بلکہ بے چین کرے اس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ ۔ ۔۔۔۔۔ وہ ایک بجلی ہے جو آدمی کے اوپر گر پڑی ہے۔ دولت کو صرف اپنی ذات پر خرچ کیا جائے تو وہ عذاب ہے مگر اللہ کے راستہ میں خرچ کیا جائے تو وہ نعمت بن جائے گی :

عن ابی ذر قال انتهيت الى النبي صلى الله عليه حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسلم وهو جالس في ظل الكعبة، فلما کے پاس آیا۔ آپ اس وقت کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ رائی قال : هم الاخسرون ورب الكعبة، آپ نے جب مجھ کو دیکھا تو فرمایا کہ کعبہ کے رب کی قسم، وہ لوگ فقلت فدالت ابی و أمّی من هم، قال گھاٹے میں ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے باپ اور ماں آپ هم الاکثرون أموالاً الا من، قال: پر فدا ہوں، وہ کون لوگ ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ زیادہ هكذ اوهكذا ! من بين يديه مال والے، سوا اس کے جس کو مال ملے تو وہ اپنے ومن خلفه وعن يمينه وعن شماله آگے اور پیچھے، اپنے دائیں اور بائیں اس وقليل ما هم (متفق عليه) کو خرچ کرے۔ اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page