Al-Risala · September 1988 · page 11

مشین کی کہانی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۱

مشین کی کہانی

۳ جن ۱۹۸۸ کو ہونے والے واقعات میں سب سے اہم اخباری واقعہ وہ حادثہ تھا جو ایران کی ہوائی کمپنی کے ساتھ پیش آیا۔ ایران ایر (Iran Air) کا ایک مسافر بردار جہاز (Airbus A-300) تہران سے اڑ۔ وہ دبئی جانے کے لیے خلیج فارس کے اوپر سے گزر رہا تھا کہ امریکہ کے جنگی جہاز (USS Vincennes) نے اس کو مار کر گرا دیا۔ عملہ سمیت اس کے ۲۹۰ مسافر ہلاک ہو گئے جن میں مرد، عورتیں اور بچے سب شامل تھے۔

یہ بلاشبہ ایک وحشیانہ واقعہ تھا۔ اتنا سنگین و وحشیانہ واقعہ کیوں پیش آیا۔ اس کا جواب امریکی بحریہ کے افسروں نے یہ دیا ہے کہ یہ کمپیوٹر کی غلطی (Computer error) تھی۔ ان کے کمپیوٹر نے مسافر بردار جہاز کو جنگی جہاز بتایا، اس لیے انھوں نے اس پر وار کیا۔ امریکی بحریہ کے مذکورہ جہاز پر جدید ترین قسم کے راڈر لگے ہوئے ہیں۔ اس راڈر کے ساتھ کمپیوٹر کا انتہائی جدید نظام نصب کیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت (Artificial intelligence) سے مسلح ہے۔ یہ سسٹم یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ فضا میں اڑنے والے جہاز کا معائنہ کرکے راڈر اسکرین پر لفظوں میں لکھ دے کہ وہ کس قسم کا جہاز ہے، دوست یا دشمن۔

۳ جون کو جب مذکورہ جہاز فضا کی بلندی میں اڑ رہا تھا تو کمپیوٹر نے اس کا معائنہ کر کے راڈار اسکرین پر جہاز کا اصل نام (ایربس اے ۳۰۰) لکھنے کے بجائے جیٹ فائٹر (F-14 jet fighter) لکھ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دوست جہاز نہیں ہے بلکہ دشمن کا جنگی جہاز ہے۔ اس کے فوراً بعد جہاز کے افسر (Captain Will Rogers III) نے بٹن دبایا اور دو میزائل نے اڑا کر جہاز کو اس کے تمام مسافروں سمیت قبرستان میں پہنچا دیا۔ (ہندوستان ٹائمس، ۱۳ جولائی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۲)

جدید ملحدین کا یہ کہنا ہے کہ کائنات ایک مشین ہے۔ اگر کائنات صرف ایک مشین ہے تو یہاں مذکورہ قسم کی مشینی غلطیاں کیوں نہیں ہوتیں۔ کیا وجہ ہے کہ اتنی بڑی کائنات بالکل بے خطا انداز میں مسلسل چلی جا رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page