اُسوۂ رسول
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۲
اُسوۂ رسول
قدیم مکہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام دینا شروع کیا تو اہل مکہ کی اکثریت نے آپ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔ وہ آپ کے خلاف طعنہ زنی کرتے، آپ کا مذاق اڑاتے اور غلط صحتیں کرتے ( فجعلت قريش يهمزونه ويستهزؤن به ويخاصمونه ، ۳۷۶)
اسی سلسلے کا ایک واقعہ وہ ہے جو ابو لہب کی بیوی (ام جمیل) سے متعلق ہے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ام جمیل نے جب سورہ مسد کو سنا جس میں اس کا اور اس کے شوہر کا ذکر ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی جب کہ آپ بیت اللہ میں تھے۔ ابو بکر صدیق بھی آپ کے پاس تھے۔ اس وقت وہ سخت غصہ میں تھی۔ اس نے کہا کہ میں شاعرہ ہوں اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں یہ شعر پڑھا :
مُذَمَّمًا عَصَيْنَا وَأَمْرَهُ أَبَيْنَا وَدِينَهُ قَلَيْنَا ایک قابل مذمت شخص کی ہم نے نافرمانی کی۔ اس کی بات کا انکار کیا اور اس کے دین سے نفرت کی۔ ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مذمم رکھا تھا۔ اس طرح وہ آپ کے خلاف سب وشتم کرتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی یہ باتیں سن کر فرماتے : أَلَا تَعْجَبُونَ لِمَا صَرَفَ اللَّهُ عَنِّى مِنْ أَذَى کیا تم کو اس پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ نے قریش قُرَيْشٍ يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ مُذَمَّمًا کی اذیت کو مجھ سے پھیر دیا۔ وہ مجھ کو برا کہتے ہیں انَا مُحَمَّد (سيرة ابن هشام، الجزء الاول اور مذمم کہہ کر ہجو کرتے ہیں۔ حالاں کہ میں محمد ( ۳۸۹ صفحہ تعریف کیا ہوا) ہوں ۔
قدیم اہل مکہ آپ کو مذمم کہتے تھے مگر آپ کی نظر آنے والے مستقبل پر رکھتی جب کہ آپ عالمی سطح پر محمد بننے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اہل مکہ کی باتوں پر غصہ نہیں ہوئے۔ جس شخص کی نظر مستقبل کے امکانات پر ہو وہ حال کی ناخوش گواریوں کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ جس کو خدا سے ملا ہوا ہو وہ بندوں سے پھینکے جانے پر برہم نہیں ہوگا ۔ جس کی صحبت پر آسمان گواہی دے رہا ہو، وہ زمین والوں کی تردید پر کبھی بددل نہیں ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues