ترکی کا سبق
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۳
ترکی کا سبق
ترکی کے عصمت انونو (۱۸۸۴-۱۹۷۳ء) ایک فوجی افسر تھے۔ انھوں نے کمال اتاترک کا ساتھ دیا۔ اتاترک کی وفات (۱۰ نومبر ۱۹۳۸ء) کے بعد وہ ترک حکومت کے صدر مقرر ہوگئے۔ کمال اتاترک کے مشہور چھ اصولوں میں ایک اصول سیکولرزم تھا۔ اس کا مطلب ان کے نزدیک محض مذہبی ناطرفداری نہ تھا۔ بلکہ جارحانہ لادینیت تھا۔ کمال اتاترک کے پورے دور حکومت میں اور پھر عصمت انونو کے دور حکومت میں یہی حکومت کی مستقل پالیسی رہی۔ مگر مذہب (اسلام) کے خلاف پوری حکومتی طاقت استعمال کرنے کے باوجود ترکی سے مذہب کا خاتمہ نہ کیا جا سکا۔ وہ بدستور پوری طاقت کے ساتھ زندہ رہا، یہاں تک کہ خود عصمت انونو کو اپنے آخری الیکشن کے موقع پر بہت سی مذہبی پابندیوں کو ختم کرنا پڑا، کیوں کہ اس کے بغیر وہ عوامی حمایت کی امید نہیں کر سکتے تھے۔
عصمت انونو جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آخر وقت میں انھوں نے اس معاملہ میں اپنے تجربات کا خلاصہ بیان کیا۔ ان کا یہ تجرباتی تاثر عربی رپورٹ کے مطابق یہ تھا : اننی لا اکاد اصدق ما اری ۔ لقد بذلنا میرے سے لیے اس کا یقین کرنا مشکل ہے جس کو میں كل ما نستطيع لانتزاع الاسلام من دیکھ رہا ہوں۔ ہم نے اپنے بس بھر تمام کوشش نفوس الاتراك وغرس مبادئ الحضارة کی کہ ترکوں کے دل سے اسلام کو نکال دیں اور الغربية مكانه ۔ فاذا بنا نفاجأ بما لم ننکن اس کی جگہ مغربی تہذیب کو ان کے اندر داخل کریں۔ نتو قعه - فقد غرسنا العلمانية فاثمرت مگر حیرت انگیز طور پر نتیجہ ہماری توقع کے خلاف الاسلام - (الوعی الاسلامی، کویت، ذوالقعدہ ۱۴۰۸ھ صفحہ ۷۲) جو پھیل نکلا وہ اسلام تھا۔ اسلام کی جڑیں انسانی فطرت میں گہری جمی ہوئی ہیں۔ جس طرح فطرت کو ختم نہیں کیا جا سکتا اسی طرح اسلام کو بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کے خادموں کو ساری کوشش دعوت کے محاذ پر کرنا چاہیے ، اسلام کی حفاظت تو اپنے آپ ہو رہی ہے ۔
ال رسالہ ستمبر ۱۹۸۸ء | ۱۳
‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues