Al-Risala · September 1988 · page 18

یہ فرق کیوں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۸

کے بعد وہ ہندوستان سے بھاگ کھڑا ہوا اور قسطنطنیہ (ترکی) میں جاکر پناہ لی۔ اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے۔ ۱۸۵۷ء میں شاملی کے میدان میں علماءءءءءء نے انگریزی فوج کا مسلح مقابلہ کیا۔ اس مقابلہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی بھی شریک تھے۔ اس وقت ہمارے علما کے پاس روایتی قسم کے دستی ہتھیار تھے، اور انگریزی فوج کے پاس جدید قسم کے دور مار ہتھیار۔ اس مقابلہ میں علما کی جماعت کو، زبردست قربانی کے باوجود، مکمل شکست ہوئی۔ اس کے بعد علما کی گرفتاریاں شروع ہوئیں اور ان کو پھانسی پر چڑھایا جانے لگا۔ مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے ہندوستان سے مکہ چلے جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ ہیبب جنگلوں اور خطرناک راستوں پر پیدل چلتے ہوئے اور ناقابل بیان تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرتے ہوئے سورت کی بندرگاہ پر پہنچے۔ وہاں سے سمندری جہاز پر سوار ہو کر جدہ چلے گئے اور بقیہ زندگی وہیں مقیم رہے (معارف مئی ۱۹۸۸)

ان دونوں واقعات کو تقابلی طور پر دیکھئے۔ ایک جگہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے مقابلہ میں پادری فنڈر میدان چھوڑ کر بھاگا تھا، دوسری جگہ ”پادری فنڈر“ کے مقابلہ میں خود مولانا رحمت اللہ کیرانوی کو میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

اس فرق کی وجہ میدانِ مقابلہ کا فرق ہے۔ آگرہ میں دونوں کے درمیان مقابلہ مناظرہ فکری اور نظریاتی میدان میں) ہوا تھا۔ فکری اور نظریاتی میدان میں اسلام ممتاز طور پر ہر ایک کے مقابلہ میں فوقیت رکھتا ہے۔ اس لئے فریق ثانی کو مکمل ناکامی ہوئی ۔ اس کے برعکس شاملی میں جو مقابلہ ہوا وہ فوج اور ہتھیار کے میدان میں تھا۔ اس میدان میں ہمارے علماء فریق ثانی کے مقابلہ میں فیصلہ کن طور پر پسماندہ تھے۔ ہمارے علما کے پاس زیادہ تر دستی ہتھیار تھے، جب کہ فریق ثانی دور مار ہتھیاروں سے مسلح تھا، یہی فرق تھا جس کی بنا پر یہاں علما کو مکمل ناکامی ہوئی ۔

میں کہوں گا کہ آپ معاملہ پر زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم میدانِ مقابلہ کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ہم فریق ثانی کو اس میدان میں لانا چاہتے ہیں، جہاں وہ ناموافق پوزیشن میں ہو اور ہم موافق پوزیشن میں ۔ ہمارے اور دوسرے لوگوں میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو اس میدان میں متحرک کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کا حریف بھاگے۔ اور دوسرے لوگ مسلمانوں کو وہاں ٹکرانا چاہتے ہیں، جہاں بالاخر خود ان کو بھاگنا پڑے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page