یہ فرق کیوں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۹
مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا واقعہ، علامتی طور پر، ہماری پوری جدید تاریخ کی تصویر ہے۔ موجودہ زمانہ میں بار بار یہی ہوا ہے۔ اور اب بھی یہی ہو رہا ہے کہ مسلمان فریق ثانی سے اس کے موافق میدان میں ٹکر اؤکرتے ہیں اور ہر بار شدید ترین شکست سے دوچار ہو رہے ہیں۔ دین کا استحکام قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کر دیا۔ اور اپنی نعمت کی تکمیل کر دی اور قیامت تک کے لئے اسلام کو مقبول دین کی حیثیت سے پسند کر لیا (المائدہ ۳) اس اعلان کے ساتھ مزید ارشاد ہوا ہے :
اليوم يئس الذين كفروا من دينكم آج انکار کرنے والے تمہارے دین کی طرف سے فلا تخشوه و اخشُون (المائدہ ۳) مایوس ہو گئے، پس تم ان سے نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ڈرو۔ قرآن کی یہ آیت ذی الحجہ ۹ھ میں اتری۔ اس کے اترنے کے تقریباً ڈھائی مہینے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ اس آیت میں اليوم (آج) کا لفظ بہت با معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن دو منذ ہی دوروں کے درمیان حد فاصل ہے۔ قرآن کے بعد مذہب کی دنیا میں ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ پہلے اگر "تخشو هم" کا دور تھا، تو اب "اخشوني" کا دور ہے۔ پہلے اگر غلبہ کفر کا دور تھا ، تو اب غلبہ دین کا دور ہے۔ قرآن کی تکمیل نے اب خدا کے دین کو آخری طور پر مستحکم کر دیا ہے۔ اس آیت سے صراحتہ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اب تشویش اور اندیشہ کی چیز یہ ہے کہ اہل ایمان کے اندر خشیت الہی (خدا کا خوف) باقی نہ رہے۔ خارجی دشمنوں کی طاقت خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، اہل ایمان کے لئے کوئی خطرہ پیدا نہیں کرتی۔ دین کے غلبہ واستحکام سے مراد اس کا سیاسی غلبہ واستحکام نہیں۔ سیاسی غلبہ اس دنیا میں کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ وہ اگر ایک مقام پر پایا جاتا ہے تو دوسرے مقام پر نہیں پایا جاتا۔ اس لئے یہاں غلبہ سے وہ غلبہ مراد لینا ہو گا جو ہر وقت اور ہر جگہ پوری طرح حاصل رہے۔ جس میں کبھی انقطاع ممکن نہ ہو۔ اس قسم کا جاری اور مستمر غلبہ صرف فکر اور نظریہ سے متعلق ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں غلبہ سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یہ قرآن اور دین کا دل کی وہ خصوصیت ہے جو اس کو ہر حال میں حاصل رہے گی۔ حتی کہ کسی مقام پر کوئی ایک شخص :- قرآن ہو تو وہ بھی اس سے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues