Al-Risala · September 1988 · page 356

یہ فرق کیوں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۵۶

اب ایک صورت یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتے اور اپنے لوگوں کو جہاد و قتال کی راہ میں لگا دیتے۔ مگر آپ نے اس کے بالکل برعکس عمل فرمایا۔ آپ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں کون شخص ہے جو ہم کو خالد کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ سے چلا کر آگے لے جائے (مَنْ رَّجُلٌ یَّخْرُجُ بِنَا عَلٰی طَرِیْقٍ غَیْرِ طريقهم الَّتِیْ هم بها صفحہ ۳۵۷)

عبد اللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ کام میں کروں گا۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں کے قافلہ کو لے کر روانہ ہوا۔ اس نے اس معروف راستہ کو چھوڑ دیا جس پر خالد بن ولید بڑھے ہوئے آ رہے تھے۔ اس کے بجائے وہ ایک اور سمت سے روانہ ہوئے، باقاعدہ راستہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ سفر سخت دشواریوں کے ساتھ طے ہوا۔ حتی کہ اس پر مشقت سفر پر بعض مسلمانوں کی زبان سے کلمہ شکایت نکل گیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: کہو کہ ہم اللہ سے مغفرت چاہتے ہیں اور اس کی طرف تو بہ کرتے ہیں (قولوا نستغفر اللہ و نتوب الیہ، ۳۵۷)

جس موقع پر یہ استغفار اور تو بہ کرائی گئی اس کے لحاظ سے دیکھیے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب تم کو اپنے آپ پر مصیبت اٹھا کر ٹھکر اؤ سے بچنے کا حکم دیا گیا تو تم نے شکایت کا لفظ کیوں اپنی زبان سے نکالا۔ تم کو کامل رضامندی کے ساتھ اس خدائی منصوبہ پر چلنا چاہئے تھا۔ اب جب کہ اس معاملہ میں تم سے بے صبری کا اظہار ہوا ہے تو استغفار اور تو بہ کے ذریعہ اس کی تلافی کرو۔

اصل یہ ہے کہ قریش کوئی نہ کوئی بہانہ نکال کر جنگ چھیڑ نا چاہتے تھے مگر آپ نے ہر قیمت پر جنگ سے اعراض کیا۔ خالد بن ولید سواروں کا دستہ لے کر آپ کی طرف بڑھے تو آپ نے راستہ بدل دیا۔ خراش بن امیہ کو آپ نے سفیر بنا کر کہ بھیجا۔ وہاں قریش نے ان کے اونٹ کو مار ڈالا۔ وہ خراش کو بھی قتل کر دینا چاہتے تھے تاہم وہ کسی نہ کسی طرح بھاگ کر واپس آگئے۔ قیام حدیبیہ کے زمانہ میں ایک بار مکہ کے پچاس آدمی رات کے وقت آئے اور صحابہ کے پڑاؤ پر پتھر مارنا اور تیر برسانا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page