Al-Risala · September 1988 · page 22

یہ فرق کیوں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۲

فتح مکہ۔ ونحن نعدّ الفتح يومَ الحديبية ، سيرة ابن کثیر ، المجلد الثالث ، صفحہ ۳۲۴) فتح مکہ (۸ھ) کھلا ہوا فتح کا واقعہ تھا۔ جب کہ حدیبیہ بظا شکست اور پسپائی کا واقعہ تھا۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تقریباً ڈیڑھ ہزار اصحاب عمرہ کے ارادہ سے مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ مگر قریش نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیا۔ آپ کو اپنے تمام ساتھیوں سمیت عمرہ ادا کئے بغیر راستہ ہی سے واپس آجا پڑا ۔ اس کے باوجود صحابہ کرام کے نزدیک فتح کا اصل واقعہ تھا جو حدیبیہ میں پیش آیا نہ کہ وہ جب کہ مکہ میں فاتحانہ داخلہ ہوا۔ اصحاب رسول کا یہ نقطہ نظر بتاتا ہے کہ پسپائی بھی بہت بڑا اقدام ہے ۔ بظاہر ہر ایک شکست کے واقعہ میں فتح کار از چھپا ہوتا ہے۔ واقعہ کا یہ پہلو بے حد اہم ہے، اور اس بنا پر حدیبیہ کے واقعہ کا نہایت گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جانا چاہئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تقریباً ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ یکم ذی قعدہ ۶ھ کی تاریخ تھی اور آپ کا مقصد یہ تھا کہ مکہ پہنچ کر بیت اللہ کا عمرہ کریں۔ قریش پچھلے 6 سال سے ممسلمانوں کے لئے زیارت کعبہ کا راستہ بند کئے ہوئے تھے۔ اس مدت میں کوئی سلمان نہ حج کر سکتا تھا اور نہ عمرہ۔ اس لئے جب انھوں نے سنا کہ ڈیڑھ ہزار مسلمانوں کا قافلہ آرہا ہے کہ وہ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرے تو وہ سخت غضبناک ہو گئے ۔ ذی قعدہ کا مہینہ اگر چہ حرام مہینوں میں سے تھا۔ یہ مہینہ سیکڑوں سال سے کعبہ کی زیارت اور حج کے لئے محترم سمجھا جاتا تھا۔ کسی کو یہ حق نہ تھا کہ باہر سے آنے والے کسی شخص کو زیارت کعبہ سے روکے۔ مگر قریش نے جاہلی عصبیت کے تحت یہ فیصلہ کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو دن کی مسافت طے کر کے عُسفان کے مقام پر پہنچے۔ یہاں آپ کی ملاقات بُسر بن سفیان الکعبی سے ہوئی جو کہ مکہ کی طرف سے آرہا تھا۔ اس نے بتایا کہ قریش کو آپ کے اس سفر کی خبر ہو گئی ہے۔ وہ مکہ سے نکل کر ذی طوی میں جمع ہو گئے ہیں۔ انھوں نے چیتے کی کھالیں پہن رکھی ہیں (یعنی سخت غضب ناک ہیں)، انھوں نے عہد کر رکھا ہے کہ وہ ہرگز آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ اور انھوں نے خالد بن ولید کو ۲۰۰ گھوڑے سواروں کے ساتھ کراع الغمیم کی طرف روانہ کیا ہے تاکہ آپ سے مڈبھیڑ کریں (سیرت ابن ہشام، الجز والثالث

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page