Al-Risala · January 1988 · page 42

Hold the flight please. Passenger is coming.

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۴۲

میں نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹی بات ہے۔ جمیعہ بلڈنگ کا جو حصہ میرے پاس ہے اس کا میں با ضابطہ کرایہ دار ہوں۔ جمیعہ ٹرسٹ سوسائٹی کے سابق چیئرمین حاجی عبدالعزیز صاحب کی رضامندی سے طرفین کے درمیان ایک تحریری اتفاق نامہ ہوا جس پر دونوں نے دستخط کیے ۔ اس طرح طرفین کے متفقہ فیصلہ کے تحت اس کی کرایہ داری قائم ہوئی اور میں 1974 سے مسلسل ماہ بہ ماہ اس کا مقررہ کرایہ ادا کر رہا ہوں۔ کوئی بھی شخص ہمارے دفتر میں آکر 1974 سے اب تک کی رسیدیں دیکھ سکتا ہے۔

مذکورہ صاحب میرے جواب سے مطمئن ہو گئے ۔ انھوں نے کہا کہ مجھے صحیح صورت حال کا علم نہ تھا۔ اس مسلمان کا آپ کے خلاف پروپیگنڈا یقیناً ایک بہتان ہے۔ البتہ اگر وہ بھی آپ کی طرح عمارت کے اصل مالک سے اتفاق نامہ کرلے اور اس کے مطابق عمل در آمد کرے تو اس کے بعد اس کے معاملہ کو جائز معاملہ کہا جا سکتا ہے ۔ ورنہ موجودہ صورت حال میں تو وہ خود اپنے اقرار کے مطابق غاصب اور خائن ثابت ہو رہا ہے ۔

ایک صاحب نے لیتھو پر چھپا ہوا ایک اردو اخبار پیش کرتے ہوئے کہا : یہ ابھی ہفت روزہ ہے۔ اب میرا ارادہ ہے کہ اس کو روز نامہ بنا دیا جائے۔ میں نے کہا کہ اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ ہفت روزہ کے بجائے روز نامہ ہو ، اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ معیار نامہ ہو۔ اردو زبان میں بے شمار اخبارات نکلتے ہیں، مگر شاید ان میں سے کوئی بھی نہیں جو جدید معیار صحافت کے مطابق ہو۔

میں نے کہا کہ حدیث میں ہے کہ الله جميل ويحب الجمال - اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جمال و کمال کے اعلیٰ معیار پر ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ جو کام کریں وہ سطح خداوندی کے مطابق ہو۔ آج کل مسلمان جو اخبارات نکال رہے ہیں وہ جدید معیار صحافت کے اعتبار سے سطح انسانی کے مطابق بھی نہیں ، کجا کہ ان کو سطح خداوندی کے مطابق کہا جائے۔ 6 نومبر، ۱۹۸۷ کی سہ پہر کو انڈین ایرلائنس کی فلائٹ ۲۲ ۴ کے ذریعہ دہلی واپسی ہوئی۔ راستہ میں ہوائی کمپنی کے ماہنامہ سواگت (اکتوبر، ۱۹۸۷) میں ایک مضمون پڑھا۔ یہ مغل یادگاروں کے بارہ میں تھا۔ اس مضمون میں اکبر (۱۶۰۵ - ۱۵۵۶) سے لے کر شاہجہان

‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues

Printed page