Hold the flight please. Passenger is coming.
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۴۱
سڑکوں سے گزرتے ہوئے راستہ میں کئی جدید طرز کی کالونیاں دکھائی دیں۔ کشادہ سڑکیں، کھلے مکانات، صاف ستھری زندگی۔ میں نے پوچھا کہ ان کالونیوں میں مسلمان کتنے ہوں گے، جواب ملا کہ ایک بھی نہیں۔ "مسلمان تالاب کھٹیکان سے نکلنا پسند نہیں کرتے۔ " یہی ذہنیت اکثر مقامات پر مسلمانوں کی ہے۔ مگر میں اس کو مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہوں۔ اس طرح مسلمان بیک وقت دو چیزوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ ایک، ذہنی وسعت۔ اور دوسرے، جدید مواقع سے فائدہ اٹھانا۔
واپسی میں جب ہم قدیم جموں کے علاقہ میں پہنچے تو ایک جگہ سڑک کے ایک طرف چند ٹھیلے کھڑے ہوئے تھے۔ اس بنا پر وہاں سڑک تنگ ہوگئی تھی اور صرف ایک ہی گاڑی کے گزرنے کا راستہ باقی تھا۔ اتفاق سے عین اسی وقت سامنے کی سڑک پر ایک اور گاڑی آگئی۔ ایک لمحہ کے لیے دونوں گاڑیاں رک گئیں۔ اس کے بعد سامنے والے ڈرائیور نے اپنی گاڑی پیچھے کی طرف چلا کر ایک کنارے کھڑی کر دی۔ اب ہماری گاڑی کے لیے راستہ کھل گیا ۔ ہم تیزی سے گزر گئے ۔ اس کے بعد دوسری طرف کی گاڑی بھی روانہ ہو کر آگے چلی گئی ۔
کبھی آگے بڑھنے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ جن لوگوں کی ڈکشنری میں صرف آگے بڑھنے کا لفظ لکھا ہوا ہو، پیچھے ہٹنے کا لفظ ان کی ڈکشنری میں درج نہ ہو، ایسے لوگوں کے لیے اس دنیا میں اپنی منزل پر پہنچنا مقدر نہیں۔
ایک مسلمان ایک ادارہ کی طرف سے اس کی ایک شاخ کا مقامی انچارج تھا۔ اس نے فریب دہی کے ذریعہ اس کی اس عمارت پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اب وہ اپنے نا جائز قبضہ کو جائز ثابت کرنے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے میں مشغول ہے۔
اس سفر میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مذکورہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مسلمان کا کہنا ہے کہ ہمارے اکابر خود غاصبانہ قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے اگر میں نے بھی ایک غاصبانہ قبضہ کر لیا تو اس میں کیا ہرج ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کی کوئی مثال بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ مسلمان اس سلسلہ میں آپ کی مثال پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ نے جمعیۃ بلڈنگ (دہلی) کے دو کمروں پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues