Al-Risala · September 1988 · page 33

منیجر الرسالہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۳

زیادہ ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ ”تلوار“ کی عظمت کے قصیدے پڑھیں اور دعوت کو ناقابلِ لحاظ سمجھ کر چھوڑ دیں، ان سے زیادہ نادان بلاشبہ اس آسمان کے نیچے اور کوئی نہیں۔ قومی سیاست اسلام ایک قائم شدہ مذہب اور تاریخی طور پر ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ جب کوئی دین یہ حیثیت حاصل کرلے تو وہ اپنے آپ پھیلنے لگتا ہے۔ چنانچہ دورِ اول کے بعد ایک ہزار سال سے بھی زیادہ مدت تک اسلام اپنے آپ پھیلتا رہا ہے۔

اسلام کے پھیلاؤ میں پہلی بار رکاوٹ موجودہ نیشنلزم کے دور میں پیدا ہوئی۔ قدیم زمانہ میں ایک فوج کا دوسری فوج سے ٹکر اؤ پیش آتا تھا۔ عام انسانی آبادی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں ایک قوم دوسری قوم سے ٹکراتی ہے۔ اس طرح ٹکر اؤ سے بننے والی دوری اور منافرت پوری کی پوری قوم میں پھیل جاتی ہے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے دعوت کے اعتبار سے جو سب سے بڑا جرم کیا ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے دوسری قوموں کی تقلید میں اپنی ملی جد وجہد کے لئے ”قومی سیاست“ کا انداز اختیار کر لیا۔ اس طرح اسلام کی لمبی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ پوری کی پوری قومیں اسلام سے متنفر ہوگئیں۔

مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ قومی سیاست کا انداز مکمل طور پر چھوڑ دیں، تاکہ قومی سطح پر پیدا ہونے والی ضد اور نفرت کی فضا ختم ہو اور اسلام کی اشاعتِ عام کا دروازہ کھلے۔ قومی سیاست کا ترک ہماری ملی جد و جہد کا پہلا زینہ ہے، اس کے بغیر ملی جد و جہد سیکڑوں سال میں بھی کسی نتیجہ پر پہنچنے والی نہیں۔

اعلان

یہ تقریر (میدانِ عمل) آڈیو کیسٹ کی صورت میں بھی تیار ہے۔ شائقین حضرات طلب فرمائیں ۔

منیجر الرسالہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page