Al-Risala · September 1988 · page 32

تاریخ کا تجربہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۲

کیا گیا۔ تاہم یہ یقینی ہے کہ اسلام کی دعوتی طاقت ہی نے آخر کار انہیں مسخر کیا۔ ان کا مسئلہ صرف اس طرح ختم ہوا کہ وہ اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر مسلمانوں کے دینی بھائی بن گئے۔ پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے مذکورہ بالا دونوں واقعات کا ذکر کسی قدر تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ اپنی کتاب "پریچنگ آف اسلام" میں لکھتے ہیں :

In the hours of its political degradation, Islam has achieved some of its most brilliant; spiritual conquests: on two great historical occasions, infidel barbarians have set their feet on the necks of the followers of the Prophet,—the Saljuq Turks in the eleventh and the Mongols in the thirteenth century,—and in each case the conquerors have accepted the religion of the conquered (p.2). اپنے سیاسی زوال کے زمانہ میں اسلام نے اپنی بعض انتہائی شاندار روحانی فتوحات حاصل کی ہیں۔ دو بڑے تاریخی مواقع پر وحشی کافروں نے اپنے پاؤں محمد کے پیروؤں کی گردن پر رکھ دئے تھے۔ گیارھویں صدی عیسوی میں سلجوق ترکوں نے اور تیرھویں صدی عیسوی میں مغلوں نے، مگر ہر بار فاتح نے اپنے مفتوح کے مذہب کو قبول کرلیا۔ اسلام کی تاریخ میں ایک ممتاز نام عثمانی ترکوں کا آتا ہے۔ یہ انھیں ترکان غزن کی اولاد تھے جن کا اوپر ذکر ہوا۔ انھوں نے ترکی میں اس عظیم خلافت کی بنیاد ڈالی جو چھ سو سال تک مسلسل قائم رہی۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد وہ صرف ۱۹۲۲ء میں ختم ہو سکی :- Turkish Osman, who is regarded as the founder of the empire that spanned six centuries and came to an end only in 1922. Encyclopaedia Britannica, vol. 13, p. 771. یہی عثمانی ترک تھے جنہوں نے ترکی کی وہ عظیم خلافت قائم کی جس کا صدر مقام قسطنطنیہ تھا۔ یہ خلافت پہلی جنگ عظیم تک پوری طاقت کے ساتھ اسلام کی پاسبانی کرتی رہی۔ یہ مدت چھ سو سال تک پھیلی ہوئی ہے۔

گویا صلاح الدین ایوبی کی شمشیری طاقت صرف ۲۵ سال کے لئے اسلام کی پاسبان بنی تھی، مگر اسلام کی دعوتی طاقت چھ سو سال تک اسلام کی عالمی پاسبانی کرتی رہی۔ یہ واقعہ قیامت تک کے لئے اس بات کی نشانی ہے کہ تلوار کے مقابلہ میں دعوت کی طاقت بے شمار گنا حد تک

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page