Al-Risala · September 1988 · page 35

بربادی کے رہنما

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۵

معلوم ہوا کہ نماز کی ادائیگی کے لیے دور کے بیرونی مقامات سے کوچ کرکے اجودھیا جانا اور وہاں کی بابری مسجد میں نماز ادا کرنے کی کوشش کرنا صراحۃً حدیثِ رسول سے ٹکراتا ہے۔ اور جب کوئی عمل قرآن اور حدیث سے ٹکرائے تو یہی ٹکراؤ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ ایک شرعی توعیت کا مسئلہ ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ایسے معاملہ میں شریعت سے رہنمائی حاصل کریں ، اور جو قدم اٹھائیں شریعت کی مطابقت میں اٹھائیں۔

۳ - اجودھیا مارچ کسی خالی جزیرہ کی طرف مارچ نہیں ہے ۔ وہ ایسے مقام کی طرف مارچ ہے جہاں پہلے سے ایک طاقت ور فریق موجود ہے ۔ اگر یہ مارچ ہوتا ہے تو ایک طرف مسلمان ہوں گے جو جلوس کی صورت میں سفر کرکے وہاں پہنچیں گے ۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو بابری مسجد پر غاصبانہ قبضہ کرکے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ مسلمانوں کے لیڈروں نے بار بار اعلان کیا ہے کہ مسلمان مکمل طور پر غیر مسلح حالت میں اجودھیا جائیں گے ۔ دوسری طرف قبضہ کرنے والے ہیں جن کا کھلا ہوا اعلان ہے کہ وہ مقررہ تاریخ کو تربیت یافتہ نوجوانوں کے دستے بہت بڑی تعداد میں اجودھیا میں اور اجودھیا کے باہر متعین کر دیں گے جو مسلمانوں کو بجبر بابری مسجد تک جانے سے روکیں گے ۔ اور اگر مسلمان پھر بھی نہ مانیں تو وہ ان کو کچلی کر رکھ دیں گے ۔ اس قسم کے غیر مساویانہ مارچ کے لیے کسی شاعر کی شاعری یا کسی خطیب کی خطابت میں نو جواز مل سکتا ہے ، مگر قرآن و سنت میں اس کے لیے کوئی جواز نہیں ۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اپنے مخالفین سے مقابلہ کے وقت بچاؤ کا اہتمام کرو ( النساء 71) )، اسی طرح قرآن میں حکم ہے کہ ایسی قوت فراہم کرو جو تمہارے دشمنوں کو ہیبت زدہ کر دینے والی ہو ( الانفال ۶۰ )، ان احکام کی روشنی میں دیکھیے تو مجوزہ مارچ اپنی موجودہ صورت میں خدائی ہدایات کے بالکل خلاف ہے۔ کیوں کہ وہ ضروری تیاری کے بغیر کیا جانے والا ہے ، وہ عملی طور پر نہتی مسلم اقلیت کو ہتھیار بند غیر مسلم اکثریت سے ٹکرانے کے ہم معنی ہے۔ ۴ - مارچ کے ذمہ داروں کو مذکورہ نازک صورت حال کا بخوبی علم ہے۔ تاہم ان کا جواب یہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو اندیشہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ کیوں کہ امن و نظم کو بحال رکھنا اور عوامی جلوس کو حفاظت مہیا کرنا حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے ، اور اس کو اسے انجام دینا چاہیے۔ اجودھیا مارچ کے موقع پر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جس تصادم کا یقینی اندیشہ ہے ، اس قسم کے فرقہ وارانہ تصادم 1947 سے اب تک بار بار مختلف شکلوں میں پیش آتے رہے ہیں۔ حتی کہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page