بربادی کے رہنما
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۶
ان کی تعداد اب دس ہزار سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ مگر خود انھیں مسلم لیڈروں کے چھپے ہوئے بیانات کے مطابق ، ہر ایسے تصادم میں پولیس اور انتظامیہ نے ہمیشہ جانبدارانہ معاملہ کیا ہے ۔ یعنی وہ غیر مسلم فرقہ کو حفاظت دے کر مسلم فرقہ کے لوگوں کو یک طرفہ طور پر اپنے ظلم کا نشانہ بناتی ہے۔ (مثال کے طور پر میرٹھ اور ملیانہ کا واقعہ ، اپریل ۔ مئی ۱۹۸۷) ایسی حالت میں مسلم لیڈروں کا مذکورہ جواب اس حدیثِ رسول سے ٹکرار ہاہے کہ مومن ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا (المومن لا يُلْدَغُ مِنْ جُحْرِمَرّتَيْنِ) جب ایک خطرناک بل کا دوبار تجربہ کرنا بھی ایمان کے خلاف ہو تو ایسی ایک معلوم بل کا دس ہزار بار تجربہ کرنا نیکیوں کی شریعیت کے مطابق ہو سکتا ہے۔
۵ ۔ اجودھیا مارچ کے موقع پر پولیس اور انتظامیہ کا یہ متوقع کردار محض قیاس نہیں ہے ۔ وہ " مرشد آباد مارچ" کی صورت میں انتہائی بھیانک طور پر پیشگی سامنے آچکا ہے۔ بنگالی اور بہار کے مسلمان، مقامی مسلم لیڈروں کی رہنمائی میں ، تقریباً ۵۰ ہزار کی تعداد میں ۲۴ جون ۱۹۸۸ کو مرشد آباد (مغربی بنگال) پہنچے تاکہ وہاں کی قدیم کٹڑہ مسجد میں نماز جمعہ ادا کریں ۔ مگر خود مسلم لیڈروں کا بیان ہے کہ وہاں کی پولیس اور انتظامیہ نے جانتے بوجھتے ان نہتے مسلمانوں کو غیر مسلم فرقہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جنھوں نے نہایت بے دردی کے ساتھ مسلمانوں کو اپنے خو شخوار عزائم کا نشانہ بنایا۔ مسلمان کٹڑہ مسجد تک نہ پہنچ کر نماز بھی ادا نہ کر سکے ۔ ان میں سے کچھ لوگ راستہ ہی میں ہلاک ہوگئے، اور کچھ لوگ لنگڑادے زخمی ہو کر اپنے گھروں کو ناکام واپس لوٹ آئے ۔
جس پولیس اور انتظامیہ کے نکمے پن کا یہ تجربہ ہو ، اس کی حفاظت کے بھروسہ پر نہتے مسلمانوں کو تشدد پر آمادہ مجمع کے درمیان بھیجنا ، شریعت تو درکنار ، عقل عام (Common sense) کے بھی خلاف ہے۔
بعض ہوشیار لیڈر کہتے ہیں کہ ان مواقع پر اگر کچھ مسلمان مارے جائیں تو اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ کیوں کہ اس طرح ہمارا پروٹسٹ تو رجسٹرڈ رہتا ہے ۔ میں کہوں گا کہ اگر پروٹسٹ ہی رجسٹر کرنا مقصود ہے تو اس کے لیے عوام کو مروانا بے فائدہ ہے ۔ پھر تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہمارے بے ریش اور باریش لیڈر نکلیں اور زبر دستی خطرہ کے مقامات میں گھس کر لاٹھیاں اور گولیاں کھائیں ۔ اگر لیڈروں میں سے کچھ لوگ مریں اور ان کی لاشیں سڑکوں پر نظر آئیں تو ہمارا پروٹسٹ زیادہ جلی خط
‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues