Al-Risala · September 1988 · page 45

ایک انتباہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۵

کہ داعی اصلاح کا نقیب ہوتا ہے اور لیڈر تخریب کا علم بردار ۔

داعی اور لیڈر کا یہ فرق لیڈر کو امت مسلمہ جیسے گروہ کی نمائندگی کے لیے اسی طرح غیر موزوں بنا دیتا ہے جس طرح کسی دادا گیری اس کو دکان کی سیلیں مین شپ کے لیے غیر موزوں بنا دیتی ہے۔ مسلمان اگر چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ان کے لیے مواقع کار کھلیں اور وہ خدا کی رحمت میں اپنا حصہ پائیں تو سب سے پہلا کام اٹھیں یہ کرنا ہے کہ وہ سیاسی لیڈروں کو اپنے ملی معاملات سے نکال پھینکیں ۔ اس کے بغیر ان کے معاملات کبھی درست ہونے والے نہیں ۔

اگر مسلمانوں کو آج یہ حقیقت دکھائی نہیں دیتی تو وہ دن دور نہیں جب پردہ پھٹے اور تمام حقیقتیں اپنے برہنہ روپ میں سامنے آجائیں۔ اس وقت ہر آدمی سچائی کو ماننے پر مجبور ہوگا ، اگر چہ اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues

Printed page