American Asian's: A Model
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۸
چل رہا تھا، اب میں حق کی شاہراہ پر چلتے ہوئے مومن کی کیفیت اپنے اندر محسوس کرتا ہوں۔ اس رسالہ کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ہم اسلام میں صحیح طور پر داخل ہوئے ہیں اور اب ایمان لائے ہیں۔ مجھے اسلامی لٹریچر میں اس سے معیاری اور کوئی رسالہ اب تک نظر نہ آیا۔ الرسالہ کے مختصر مضامین نے مجھے سوچ سمجھ عطا کی اور میری زندگی کو پورے طور پر تعمیر ی کاموں کے لیے بنا دیا ۔ (محمد منیر فیض) 11 - ایک صاحب اپنے خط (2 جون ۱۹۸۸) میں لکھتے ہیں : ہمارے آفس میں ایک انجینئر ہیں ان کا نام جینت بابو راؤ شمتی ہے ۔ وہ خدا پر یقین نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہے انسان ہے ۔ اس سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ ان سے بات ہوئی تو میں نے ان کو گاڈ آرٹارئز پڑھنے کے لیے دی ۔ تیسرے دن انھوں نے آفس آتے ہی مجھ سے ملاقات کی اور کہا۔ میں نے کتاب کا مطالعہ کیا ۔ یقیناً تم نے ایک بہت ہی قیمتی کتاب مجھے پڑھنے کے لیے دی ہے۔ انسان کچھ نہیں۔ اس کتاب میں بہت ہی مدلل مقالے ہیں۔ اب مجھے اپنے نظریہ پر نظر ثانی کرنی ہوگی ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ آپ سے خط کتابت کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی گاڈ آرٹارئز کا ترجمہ مراٹھی زبان میں کرنا چاہتے ہیں۔
۱۲ - ایک صاحب کراچی سے اپنے خط (۱۵ مئی ۱۹۸۸ ) میں لکھتے ہیں : آپ کی کتابوں کی افادیت محسوس کر کے ہم نے انھیں سندھی زبان میں شائع کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب تک آٹھ دس کتابوں کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور سندھی نوجوانوں کے یہ تاثرات آئے ہیں کہ خدا کے فضل سے ان کتابوں کے مطالعہ نے ہمیں الحاد و دہریت کے سیلاب میں بہہ جانے سے بچالیا ۔ ( محمد موسی بھٹو، حیدر آباد ، سندھ) ۱۳ - ایک صاحب اپنے خط اار جون ۱۹۸۸ میں لکھتے ہیں : میں ایک مصروف دکاندار ہوں ۔ اس وجہ سے کتابوں کا مطالعہ نہیں کر پاتا ۔ مگر اس کے باوجود الرسالہ کا مطالعہ باقاعدگی کے ساتھ کرتا ہوں ۔ دکان پر جب بھی کچھ موقع ملتا ہے، الرسالہ کھول کر بیٹھ جاتا ہوں۔ ہر روز رات کو سونے سے پہلے گھر کے تمام افراد کو الرسالہ کے مضامین سناتا ہوں ۔ الحمد للہ آپ کے مضامین کو سن کر ہمارے بچوں کا مزاج اتنا بدل گیا ہے کہ وہ دینداری کی طرف مائل ہو گیے ہیں (انور کمال ، کلکتہ)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues