American Asian's: A Model
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۷
تاثر قبول کر رہے ہیں۔ الجزائر سے استاذ محبوب میلود اپنے خط (۲۳ شعبان ۱۴۰۸) میں اپنے مطالعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھتے ہیں : وقد قرأت في رسائلكم وكتبكم عن اهداف المركز فانها والحق تعالى اعجبني واثلجت صدري۔
6۔ ایک صاحب اپنے خط (۲۶ مئی ۱۹۸۸) میں لکھتے ہیں : ایک مقام پر کچھ خواتین نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ اسلام نے ہم کو بہت پیچھے کر دیا ہے ۔ بیرونی کاموں سے ہم کو معطل رکھا جاتا ہے۔ جب کہ دوسری عورتیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ میں نے ان کو الرساله اکتوبر ۱۹۸۷ کا مضمون ’’تہذیب جدید کے مسائل‘‘ پیش کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نے جادو کا اثر کیا۔ پھر میرے پاس جتنے رسالے تھے سب لے جا کر دیا تو ایک ہی دن میں سب پڑھ ڈالا ۔ اب ان لوگوں کو الرسالہ سے بے حد دلچسپی ہو گئی ہے (جنید احمد، سیوان) ۷- غالب اکیڈمی کی تقریر (17 اپریل) کی رپورٹ دہلی کے مختلف اخبارات میں شائع ہوئی۔ ہندی روز نامہ نو بھارت ٹائمس (۱۸ اپریل ۱۹۸۸) نے تقریر کا خلاصہ دیتے ہوئے اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا : اسلام و د تر مان یک کا نر ما تا ۔ اخبار ہجوم نے اپنی تفصیلی رپورٹ اس عنوان کے ساتھ شائع کی ’’اسلام دور جدید کا خالق‘‘ وغیرہ ۸- بعض مقامات سے اطلاع ملی ہے کہ وہاں الرسالہ کے قارئین اور اس کے ہمدرد ہفتہ میں ایک بار کسی مقام پر جمع ہوتے ہیں ۔ ہر ایک اپنا کھانا اپنے ساتھ لاتا ہے ، اور سب مل کر ایک ساتھ کھاتے ہیں اور پھر الرسالہ کی توسیع و ترقی کے لیے مشورہ کرتے ہیں۔ ’’اجتماعی کھانا‘‘ کا یہ طریقہ بہت مناسب ہے ۔ دوسرے مقامات کے احباب کو بھی اس پر عمل کرنا چاہیے ۔
۹- مرکز کی اشاعتی اسکیم کے تحت حسب ذیل نئی کتابیں زیر طبع ہیں : میوات کا سفر، تعمیر کی طرف ، کاروانِ اسلام ، نشری تقریریں ، پیغامِ عمل ، عقلیات اسلام ۔ ۱۰- ریاض سے ایک صاحب اپنے خط ۲۵ اپریل ۱۹۸۸ میں لکھتے ہیں : کئی سالوں سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں۔ یہ رسالہ ہمارے لیے بہترین نسخہ ہے۔ الرسالہ ہمارے ایک انڈین مسلمان کی معرفت ملتا ہے۔ اس سے مجھے بہت فائدہ پہنچا۔ اس سے پہلے میں حق کی پگڈنڈی پر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1988 All issues