سب سے بڑا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۹
سب سے بڑا مسئلہ
ملک کی تقسیم (۱۹۴۷) سے پہلے ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان دو قسم کی قیادتیں ابھریں۔ ایک باریش قیادت اور دوسری بے ریش قیادت۔ بظاہر دونوں کے درمیان زبردست اختلافات تھے۔ ایک متحدہ ہندوستان کی حامی تھی، اور دوسری منقسم ہندوستان کی حامی۔ مگر اس اعتبار سے دونوں یکساں تھے کہ دونوں نفرت کی زمین پر کھڑے ہوئے تھے۔ ایک کا سرمایہ نفرت انگریز تھا، اور دوسرے کا سرمایہ نفرت ہندو۔
باریش قیادت کی نفرت کا نشانہ انگریز تھا۔ اگر مسلمانوں نے باریش قیادت کا ساتھ دیا ہوتا تو انگریز کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد شاید نفرت کی آگ ٹھنڈی پڑ جاتی اور مسلمان دوبارہ معتدل زندگی گزارنا شروع کر دیتے ۔ مگر مخصوص اسباب کے تحت بے ریش قیادت کو کامیابی حاصل ہوئی۔ مسلمانوں کی بیشتر تعداد بے ریش قیادت کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئی۔ چونکہ بے ریش قیادت کی نفرت کا نشانہ ہندو تھا ، اور ہندو تقسیم کے بعد بدستور اپنی حالت پر باقی رہا ، ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اندرونی حریف کے طور پر، اور پاکستانی مسلمانوں کے لیے سرحدی حریف کے طور پر، نتیجہ یہ ہوا کہ نفرت والی سیاست کا تسلسل بدستور سرحد کے دونوں طرف جاری رہا۔
یہ بات خواہ کتنی ہی زیادہ تلخ ہو، مگر یہ حقیقت ہے کہ موجودہ مسلمانوں کا واحد سرمایہ جس پر وہ جی رہے ہیں وہ محبت نہیں بلکہ نفرت ہے۔ اس کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ ان کے درمیان وہی اخبارات سب سے زیادہ پڑھے جاتے ہیں جو اِنہیں نفرت کی شراب پلائیں۔ ان کے درمیان وہی افراد قائد بن کر ابھرتے ہیں جو نفرت کے لہجہ میں بات کریں۔ وہ انہیں نعروں پر سب سے زیادہ متحرک ہوتے ہیں جن کے اندر نفرت کی چاشنی موجود ہو۔
مسلمانوں کی نجات کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو نفرت کے اس گڑھے سے نکالیں اور محبت کی زمین پر کھڑے ہونے کی کوشش کریں۔ ورنہ یقینی ہے کہ وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے ، اور انھیں کے ساتھ ان کے وہ اکابر بھی جو مسلمانوں کو اُس خلافِ اسلام مشغلہ میں دیکھتے ہیں، پھر کبھی وہ انھیں نہیں ٹوکتے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues