Al-Risala · October 1988 · page 12

دعوت کے حدود

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۲

دعوت کے حدود

قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگوں کو نصیحت کرو ، کیوں کہ تم صرف نصیحت کرنے والے ہو ، تم لوگوں کے اوپر داروغہ نہیں ہو (الغاشیہ ٢٢ ) اسی طرح دوسرے مقام پر کہا گیا ہے کہ تم لوگوں کے اوپر جبر کر نے والے نہیں ہو ، پس تم قرآن کے ذریعہ اس شخص کو نصیحت کرو جو میرے ڈرانے سے ڈرے (ق ۴۵ ) حدیث میں ارشاد ہوا ہے :

حضرت ابو موسی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب میں سے کسی کو کسی کام پر بھیجتے تو فرماتے کہ خوش خبری دو اور ممتنفر نہ کرو ، آسانی پیدا کرو اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو ۔

عن أبي موسی قال : کان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اذا بعث احداً من اصحابه في بعض امره قال " بشروا ولا تنفروا ، ويسروا ولا تعسرا " (متفق عليه)

اس طرح کی آیتیں اور حدیثیں گویا دعوت کے عمل کی حد بندی کر رہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کو ابلاغ کے دائرہ میں رہ کر کام کرنا ہے ، اس کو اجبار کے دائرہ میں داخل نہیں ہوتا ہے ۔ اس کو یہ حق ہے کہ وہ سمجھانے بجھانے کے تمام ذرائع کو استعمال کرے۔ مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ تخریبی طریقہ اختیار کرکے لوگوں کو مجبور کرنے لگے۔ مثال کے طور پر فیملی پلاننگ کو لیجئے۔ فیملی پلاننگ کا موجودہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ یہاں ایک داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ اسلامی نقطہ نظر کو ثابت کرے۔ اور اس طرح اس کے بارے میں لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے۔ اس طریقہ کی ایک مثال راقم الحروف کی کتاب عظمت قرآن (صفحہ ۲۳ - ۲۶ ) میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ لیکن اگر کچھ لوگ ” اینٹی فیملی پلاننگ مہم " چلائیں۔ وہ فیملی پلاننگ کے پوسٹر پھاڑیں ، اخباروں کو جلائیں اور دکانوں کو بند کرائیں ، تو اس قسم کی مہم درست نہ ہوگی ۔ کیوں کہ یہ دعوت نہیں ایجی ٹیشن ہے۔ یہ ابلاغ کی حد کو پار کرکے اجبار کی حد میں داخل ہونا ہے ، اور اس قسم کا تجاوز داعی کے لیے جائز نہیں۔ ایسا طریقی کار لوگوں کو اسلام سے تنفر کرنے کا سبب بنتا ہے ، جب کہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کریں۔ اس قسم کی " اینٹی " مہم چلانا گویا دعوتی مواقع کو قتل کرنا ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تخریب کاری ہے نہ کہ دعوت الی اللہ ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page