Al-Risala · October 1988 · page 13

۴۵ سال بعد

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۳

۴۵ سال بعد

فرینک بورگن (Frank P. Bourgin) نے امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی سے اقتصادی تاریخ کے موضوع پر ریسرچ کیا۔ انھوں نے اپنا ۷۱ صفحات کا مقالہ تیار کر کے یونیورسٹی کے حوالہ کر دیا۔ یہ ۱۹۴۲ کا واقعہ ہے۔ مگر یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے شعبہ نے ان کے مقالہ کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اس پر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی جائے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ آدم اسمته (Adam Smith) کے فکری غلبہ کا زمانہ تھا۔ امریکی دانشور اس وقت آدم اسمہ کے زیر اثر آزاد معیشت (Laissez-faire) کو مقدس عقیدہ کا درجہ دیے ہوئے تھے۔ مسٹر بورگن کا مقالہ اس رواجی منکر اور اس روایتی تعقل (Conventional wisdom) سے ٹکراتا تھا کیوں کہ انھوں نے اپنے مقالہ میں یہ لکھا تھا کہ آزاد معیشت بے قید معیشت کا نام نہیں ہے۔ امریکی دستور کے مطابق، حکومت کو یہ حق ہے کہ وہ منصوبہ بند اقتصادیات (Planned economy) کا طریقہ اپنائے ۔ اور حسب ضرورت نجی اقتصادی سرگرمیوں پر پابندی لگائے۔

مسٹر بورگن نے ڈاکٹریٹ سے مایوس ہو کر بزنس شروع کر دی۔ انھوں نے اپنے مقالہ کو لوہے کے ایک کیپس میں بند کر دیا جو ایک تلخ وراثت (Bitter legacy) کے طور پر ان کے گھر میں پڑا رہا۔ یہاں تک کہ مسٹر بورگن کی عمر 77 سال ہو گئی۔ وہ جسمانی اعتبار سے معذور ہو گئے۔ بالآخر حالات بدلے۔ امریکی دستور کے بارے میں نئی تعبیر عام طور پر تسلیم کی جانے لگی۔ چنانچہ امریکہ کے ایک ممتاز پروفیسر شیلی سنگر (Arthur Schlesinger Jr) نے خاص اسی موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام امریکی تاریخ کا اتار چڑھاؤ (Cycles of American History) ہے۔ مسٹر بورگن نے یہ کتاب پڑھی تو انھوں نے محسوس کیا کہ اس کتاب میں بھی وہی خیالات پیش کیے گئے ہیں جو انھوں نے تقریباً آدھی صدی قبل تحریر کیے تھے۔ اس کتاب کو دیکھنے کے بعد انھوں نے پروفیسر شیلی سنگر کو اپنے مقالہ کا خلاصہ روانہ کیا اور اس کے ساتھ جو کچھ پیش آیا تھا وہ بھی انھیں تحریر کیا۔

پروفیسر شیلی سنگر (سٹی یونیورسٹی آف نیویارک) نے مقالہ کو پڑھ کر اس کی زبردست تحسین الـرسالہ اکتوبر ۱۹۸۸

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page