Al-Risala · October 1988 · page 16

عمارت ڈھ گئی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۶

عمارت ڈھ گئی

۳ مئی ۱۹۸۸ء کو دہلی کے اخبارات کے صفحہ اول پر ایک دردناک تصویر چھپی ہوئی تھی۔ ایک عمارت زمین پر گر کر کھنڈر ہو گئی۔ تصویر کے ساتھ جلی الفاظ میں لکھا ہوا تھا ــــ جموں اسپتال کی عمارت منہدم :

Jammu hospital collapsed

قصہ یہ ہے کہ جموں میں سرکاری فنڈ سے بچوں کا ایک اسپتال بنایا گیا۔ اس کی تین منزلہ عمارت صرف تین سال پہلے ۱۹۸۵ء میں بن کر تیار ہوئی تھی۔ اب اس میں باضابطہ کام شروع ہو گیا تھا۔ اچانک اس کے ایک حصہ میں شگاف ظاہر ہوا ۔ اس کے بعد رات بھر تیز بارش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ 2 مئی کو صبح ساڑھے چھ بجے یہ پختہ عمارت دھڑام سے گر پڑی ۔ ایک اندازہ کے مطابق تقریباً ایک سو کی تعداد میں عملہ کے افراد ، مریض اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے لوگ دب کر مر گئے۔ انڈین ایکسپریس (۳ مئی ۱۹۸۸ء) کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ انہدام کا سبب یہ تھا کہ اس میں گھٹیا قسم کا تعمیری سامان لگایا گیا تھا :

It is believed to have collapsed due to the use of inferior quality construction material. پختہ عمارت کا یہ انہدام ، اس طرح کے دوسرے واقعات کی طرح ، محض ایک معمولی حادثہ نہیں۔ یہ خدا کا الارم ہے۔ یہ دنیوی واقعہ کی زبان میں آخرت میں ہونے والے واقعہ کی پیشگی اطلاع ہے ۔

موجودہ دنیا میں بہت سے لوگوں کی مصلحت پرستی اور ان کی استحصالی ذہنیت انھیں یہ موقع دے رہی ہے کہ وہ اپنی شخصیت کی شاندار عمارتیں کھڑی کریں۔ وہ اپنے چاروں طرف عظمت کی پر بہار فصل اگائیں۔ مگر آخرت کے اعتبار سے یہ " ناقص سامان " کے اوپر اپنی تعمیر کھڑی کرنا ہے۔ موجودہ دنیا کی عمارتیں قیامت کے آتے ہی ڈھ پڑیں گی ۔ لوگ دیکھیں گے کہ جہاں پہلے اونچا محل کھڑا ہوا تھا وہاں اب برباد کھنڈر کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page