I thought it was a tremendous job.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۵
نے رد کر دیا تھا ، اس کو میں قبولیت کا شرف عطا کرتا ہوں ۔ میرا یہی بندہ میرا مطلوب بندہ تھا۔ دوسرے لوگ اگر پھلکا ہیں تو یہ مغز تھا۔ دوسرے لوگ اگر کوڑا ہیں تو یہ اثاثہ تھا۔ لوگوں کے اس مردود بندے کو آج میں اپنے مقبول بندے کے طور پر سرفراز کرتا ہوں ۔ آج میں اس کے لیے ابدی انعامات کے تمام دروازے کھولتا ہوں ، وہ جس دروازے سے چاہے میری رحمتوں کی دنیا میں داخل ہو جائے ______________ اس آنے والے دن کا آنا یقینی ہے۔ اس دن مایوسی اور ناکامی رد کرنے والوں کے لیے ہوگی ، اور عزت اور کامیابی ان کے لیے جنہیں رد کر دیا گیا تھا ۔
یہی بات حضرت مسیح نے ان لفظوں میں کہی ہے کہ " بہت سے اول آخر ہو جائیں گے اور آخر اول " (مرقس ۱۰ : ۳۱) دوسری جگہ حضرت مسیح کا ارشاد اس طرح نقل کیا گیا ہے : پھر اس نے اپنے شاگردوں کی طرف نظر کر کے کہا مبارک ہو تم جو غریب ہو ، کیوں کہ خدا کی بادشاہی تمہاری ہے ۔ مبارک ہو تم جو اب بھوکے ہو ، کیوں کہ آسودہ ہو گے ۔ مبارک ہو تم جو اب روتے ہو ، کیوں کہ ہنسو گے ۔ جب ابن آدم کے سبب سے لوگ تم سے عداوت رکھیں گے اور تمہیں خارج کر دیں گے اور لعن طعن کریں گے اور تمہارا نام برا جان کر کاٹ دیں گے تو تم مبارک ہو گے ۔ اس دن خوش ہونا اور خوشی کے مارے اچھلنا ۔ اس لیے کہ دیکھو ، آسمان پر تمہارا اجر بڑا ہے ۔ کیوں کہ ان کے باپ دادا نبیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ مگر افسوس تم پر جو دولت مند ہو ، کیونکہ تم اپنی تسلی پا چکے ۔ افسوس تم پر جو اب سیر ہو ، کیوں کہ بھوکے ہو گے ۔ افسوس تم پر جو اب ہنستے ہو کیوں کہ ماتم کرو گے اور روؤ گے ۔ افسوس تم پر جب سب لوگ تمہیں بھلا کہیں ، کیوں کہ ان کے باپ دادا جھوٹے نبیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ (لوقا ۶ : ۲۰ ۔ ۲۶)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues