Al-Risala · October 1988 · page 18

حل رخی پالیسی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۸

حل رخی پالیسی

موجودہ سال کا غالباً سب سے زیادہ اہم واقعہ سوویت روس اور امریکہ کی وہ مفاہمت ہے جس کو ٹائم (۳۰ مئی ۱۹۸۸) نے بجا طور پر عظیم اتحاد (Grand compromise) کا نام دیا ہے۔ سوویت روس اور امریکہ دونوں دنیا کی سب سے بڑی طاقت (Superpowers) شمار ہوتے ہیں۔ پہلے، یہ سال سے دونوں کے درمیان سخت رقابت جاری تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ٹکراؤ کی پالیسی پر قائم تھے۔ دونوں ملکوں کے پریس اور میڈیا کا کام یہ تھا کہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں اور ایک دوسرے کی مذمت کرتے رہیں۔ مگر لمبے تجربہ کے بعد، اب دونوں ٹکراؤ کے بجائے صلح کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ ہتھیاروں کی دوڑ کے بجائے بات چیت کی دوڑ پر اپنی توجہ لگائے ہوئے ہیں۔ وہ رقابت کے طریقہ کو چھوڑ کر مفاہمت کے طریقہ کو اپنا رہے ہیں ۔

سوویت روس کے ایک ذمہ دار نے اس نئی پالیسی کو حل رُخی (Solution-oriented) پالیسی کا نام دیا ہے ۔ اس سے پہلے دونوں کی تمام توجہ اگر اس پر جمی ہوئی تھی کہ وہ ایک دوسرے کو غلط ثابت کریں تو اب انھوں نے اس قسم کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی تمام توجہ اس پر لگا دی ہے کہ مسئلہ کا حل کیا ہے ۔ یہ واقعہ جو سوویت روس اور امریکہ کے درمیان پیش آیا ہے ، اس میں دوسری قوموں کے لیے بہت بڑا سبق ہے ۔ موجودہ زمانہ میں اختلاف اور ٹکراؤ کی پالیسی اتنا مہنگا سودا بن چکی ہے کہ بڑی طاقتیں بھی اس کا تحمل نہ کر سکیں ۔ پھر چھوٹی قومیں کیوں کر اس تباہ کن مشغلہ کا تحمل کر سکتی ہیں ۔ حقیقت پسندی کی طرف نیکیتا خروشچیوف ۱۹۵۸ سے ۱۹۶۴ تک سوویت روس کے وزیرِ اعظم تھے ۔ انھوں نے سرمایہ دار دنیا کو خطاب کرتے ہوئے اپنا مشہور جملہ (ہندوستان ٹائیمس ۲۸ جون ۱۹۸۸) کہا تھا کہ ہم تم کو دفن کر دیں گے :

We will bury you.

اسی طرح امریکہ کے پریذیڈنٹ رونالڈ ریگن نے ۱۹۸۳ میں سوویت روس کو شیطانی سلطنت (The evil empire) قرار دیا تھا۔ امریکی افسروں کا کہنا تھا کہ ہم اشتراکی روس کو سمندر میں دھکیل

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page