We will bury you.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۹
دیں گے۔ مگر اشتراکی انقلاب کے ستر سال بعد ۱۹۸۸ میں آخر کار دونوں ملکوں کو اپنا ذہن بدلنا پڑا۔ روس کے لیڈروں نے گفت و شنید کے لیے امریکہ جانا شروع کیا۔ رونالڈ ریگن نے خود ماسکو کا دورہ ( ۲۸ جون تا ۲ جولائی ۱۹۸۸) کیا جس کو وہ اس سے پہلے خارج از امکان سمجھتے تھے۔ دورے سے پہلے واشنگتن ہندستان ٹائمس (۶ مئی ۱۹۸۸) میں انھوں نے کہا کہ ماسکو کے ساتھ امریکہ کا تعلق حقیقت پسندی کے تحت قائم ہونا چاہیے :
U.S. relations with Moscow must be guided by realism. چالیس سال سے دونوں ملکوں کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ (Arms race) جاری تھی۔ دونوں ملک ایک دوسرے کو برباد کرنے کے لیے تاریخ کے خطرناک ترین ہتھیار بنانے میں مشغول تھے، مگر آج وہ اپنے بنائے ہوئے ہتھیاروں پر خود ہی پابندی لگا رہے ہیں، حتیٰ کہ اس کو ضائع کر رہے ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (۳ اگست ۱۹۸۸) سکشن ۲ صفحہ ۱ پر ایک خبر ہے جس کی سرخی یہ ہے : USSR destroys 4 missiles (سوویٹ روس اپنے چار میزائل کو برباد کرتا ہے) خبر میں بتایا گیا ہے کہ ۲ اگست ۱۹۸۸ کو سوویٹ روس نے سر یوز یک (Saryozek) میں چار چھوٹی رینج کے میزائل (22-OTR) برباد کر دیے۔ یہ واقعہ مختلف ملکوں کے مشاہدین کی موجودگی میں ہوا جن میں ہندستان اور امریکہ کے مشاہدین بھی شامل تھے ۔ میزائل کے خاتمہ کا یہ عمل اس معاہدہ کے تحت کیا گیا ہے جو ریگن اور گوربا چوف کے درمیان ہوا ہے ۔
معاہدہ کے تحت سوویت روس اگلے تین سال میں اپنے ۵۲۷، میزائل کو ضائع کرے گا جن کا ریج ۵۰ کلومیٹر سے لے کر ۵۵۰ کلومیٹر تک ہے ۔ امریکہ، حسب معاہدہ اپنے اسی قسم کے ۸۵۹ میزائل کو ضائع کرے گا ۔
روس اور امریکہ کی پالیسی میں اس ڈرامائی تبدیلی کا راز یہ ہے کہ ہتھیار سازی اور عسکری فوقیت حاصل کرنے کی کوشش میں دونوں ملکوں کی ترقی رک گئی ۔ ایک دوسرے کے خلاف ہتھیاروں کی دوڑ (Arms race) اور ایک دوسرے کے خلاف مذمت رخی (Blame-oriented) پالیسی میں نصف صدی کی مدت گزارنے کے بعد ان پر کھلا کہ اس منفی طریقی کار سے وہ کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues