Kremlin, White House now realistic (p. 20).
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۱
انھوں نے روسی وزیر اعظم مسٹر گورباچوف کی ساڑھے تین گھنٹہ کی تقریر کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان کیا ہے : پیغام بظاہر بالکل سادہ تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کو انتظامیہ اور اقتصادیات اور ملک کے اوپر اپنے سخت کنٹرول کو چھوڑنا ہوگا۔ طاقت اور استحقاق پر پابندی لگانی ہوگی۔ سائنس اور محرک کو آگے بڑھانا ہوگا، اگر سوویت یونین کو بقیہ دنیا کا مقابلہ کرنا ہے، سپر پاور کی حیثیت کو باقی رکھنا تو درکنار۔ پرسترائیکا ان حالات نے روسی وزیر اعظم مسٹر میخائیل گورباچوف کو مجبور کیا کہ وہ حقیقت کا اعتراف کریں۔ انھوں نے اشتراکی برتری کا مزاج ترک کرتے ہوئے روس میں تبدیلیاں لانے کی ایک نئی مہم شروع کر دی جس کو وہ دو لفظ میں بیان کرتے ہیں۔ ایک گلاس ناسٹ (Glasnost) یہ ایک روسی لفظ ہے جس کے معنی کشادگی (Openness) کے ہیں۔ دوسرے، پرسترائیکا (Perestroika) اس کا مطلب روسی زبان میں تنظیم نو (Re-structuring) ہوتا ہے۔ پرسترائیکا کے نام سے مسٹر گورباچوف کی ایک کتاب بھی شائع ہوئی ہے۔ جس کا نام انگریزی میں اس طرح ہے : Perestroika: New Thinking for our Country and the World. اس تحریک کے تحت روس کے سابق اشتراکی ڈھانچہ میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں ۔ اس میں مذہبی آزادی سے لے کر اپنے روایتی دشمن امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات تک شامل ہیں اس سلسلہ میں نہایت سبق آموز رپورٹیں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں ۔ ان میں سے ایک رپورٹ وہ ہے جو لاس اینجلس اور واشنگٹن پوسٹ نیوز سروس کے تحت اخبارات میں آئی ہے۔ ہندستان ٹائمس (16 جنوری ۱۹۸۸) نے اس کو مسٹر رائے گٹ مین (Roy Gutman) کے نام سے شائع کیا ہے اس کا عنوان حسب ذیل ہے :
Kremlin, White House now realistic (p. 20).
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد روس اور امریکہ کے تعلقات میں ایک
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues