Al-Risala · October 1988 · page 20

امریکہ اور روس

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰

حاصل نہ کر سکے ۔ جب کہ دوسرے کی کاٹ کی کوشش میں دونوں نے خود اپنے آپ کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا۔ چنانچہ اب انھوں نے سابقہ پالیسی کو ترک کرکے حل رخی (Solution-oriented) پالیسی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

امریکہ اور روس

امریکہ نے اپنی ساری طاقت جنگی مشین تیار کرنے میں لگا دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اقتصادی میدان میں خود اپنے مفتوحہ ملک جاپان سے بھی پیچھے ہو گیا ۔ امریکہ آج سب سے بڑا قرض دار ملک ہے۔ اس کے اوپر 400 بلین ڈالر کا خارجی قرضہ ہے ، جب کہ جاپان آج سب سے بڑا دائن ملک ہے۔ اُس نے دنیا کو ۴۰ بلین ڈالر قرض دے رکھا ہے ۔ امریکی ڈالر جو پچھلی نصف صدی سے اقتصادی دنیا کا شہنشاہ بنا ہوا تھا ، اس کی یہ حیثیت بری طرح مجروح ہو گئی ۔ حتیٰ کہ یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ کیا امریکہ اپنی بڑی طاقت کی حیثیت (Superpower status) کو برقرار رکھ سکتا ہے (تفصیل کے لیے : ٹائم 4 جولائی ۱۹۸۸ )

ڈاکٹر ہنری کسنجر نے ایک انٹرویو (ٹائمز آف انڈیا ۹ اگست ۱۹۸۸) میں کہا کہ نئی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر کچھ نئی طاقتیں ابھری ہیں۔ مثلاً چین اور ہندستان ۔ جاپان دن بدن زیادہ سے زیادہ طاقت ور ہو تا جا رہا ہے ۔ ایسی حالت میں امریکہ کو دوسرے ملکوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کو چھوڑنا پڑے گا۔ امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نئے طاقتی مراکز کے ساتھ موافقت کرے : US will have to adjust with new power centres. ۱۹ ویں آل سوویت پارٹی کانفرنس جون ۱۹۸۸ کے آخری ہفتہ میں ماسکو میں ہوئی جس میں پورے ملک سے پانچ ہزار ڈیلی گیٹ شریک ہوئے ۔ اس موقع پر روسی وزیرِاعظم گورباچوف نے ساڑھے تین گھنٹہ کی تقریر کی ۔ اس طویل تقریر میں انھوں نے نہایت شدت کے ساتھ خود تنقیدی (Self-criticism) کی وکالت کی ۔ ان کی اس تقریر کا ملخص متن ٹائمز آف انڈیا (۲۹ جون ۱۹۸۸) صفحہ اوپر دیکھا جا سکتا ہے ۔

مسٹر کوئنٹن پیل (Quentin Peel) ایک اخبار نویس کی حیثیت سے خود ماسکو کی اس کانفرنس میں شریک تھے ۔ انھوں نے روسی لیڈروں کی تقریریں سنیں اور ان سے ملاقاتیں کیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page