حاکم نہیں داعی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۵
حاکم نہیں داعی
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس، ایک قسم کے جنون عظمت (Paranoia) کا کیس ہے۔ جنون عظمت (پیرانوئیا) کا مطلب بڑائی کا فریب (Delusions of grandeur) ہے۔ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جس میں وہ شخص مبتلا ہو جاتا ہے جو بطور خود اپنے کو بڑا سمجھے، جب کہ دوسرے لوگ اس کی بڑائی کو نہ مانتے ہوں۔ ایسا آدمی جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ وہ دوسروں سے نفرت کرتا ہے اور ان سے لڑتا رہتا ہے، کیوں کہ اس کو دوسروں سے یہ شکایت ہوتی ہے کہ انھوں نے اس کی برترحیثیت کا اعتراف نہیں کیا۔
" جنون عظمت " کے معاملہ کو ایک سادہ مثال کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ مثال اس عام منظر کی ہے جو ساس اور بہو کے مسئلہ کی صورت میں ہر گھر میں پایا جاتا ہے۔ ایک عورت کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے وہ اس کو محبت کے ساتھ پالتی ہے ۔ ہر قسم کی تکلیفیں اٹھا کر اس کو بڑا کرتی ہے۔ اس کے بعد نہایت شوق کے ساتھ اس کی شادی کرتی ہے۔ مگر جب ایک لڑکی بہو بن کر اس کے گھر میں رہنے لگتی ہے تو دھیرے دھیرے وہ اس سے متنفر ہو جاتی ہے ۔ وہ بات بات میں اس سے لڑتی ہے۔ حتی کہ گھر کی فضا اتنی خراب ہو جاتی ہے کہ نہ ساس کو چین رہتا ہے اور نہ بیٹے اور بہو کو۔
اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہو کے آنے سے پہلے یہ " ساس " گھر کی مالک اور حاکم بنی ہوئی تھی۔ ہر کام اس کی مرضی سے ہوتا تھا۔ مگر بہو کی آمد کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ گھر کے اندر بہو کا عمل دخل شروع ہو جاتا ہے۔ بیٹا پہلے اپنی تنخواہ ماں کو دیتا تھا ، اب نئے انتظامِ کار کی حیثیت سے وہ اپنی تنخواہ " بہو " کے ہاتھ میں دینے لگتا ہے۔ پہلے ہر کام میں صرف ماں سے مشورہ لیا جاتا تھا۔ اب بدلے ہوئے حالات کے تحت بہو سے مشورہ لیا جانے لگتا ہے ۔ وغیرہ " ساس " اس تبدیلی کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ (Adjust) نہیں کر پاتی۔ ساس کو اگرچہ کوئی حقیقی تکلیف نہیں ہوتی ، بلکہ اکثر اوقات اس کو پہلے سے زیادہ آرام حاصل رہتا ہے۔ مگر نفسیاتی طور پر وہ سمجھنے لگتی ہے کہ جس گھر میں اب تک میں حاکم کی حیثیت رکھتی تھی، وہاں بہو نے آکر مجھ کو محکوم بنا دیا ہے ۔ وہ چیز جس کو عام طور پر " ساس بہو کا جھگڑا " کہا جاتا ہے، وہ ساس کی نسبت
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues