حاکم نہیں داعی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲۶
سے اسی بدلی ہوئی صورتِ حال سے اپنے آپ کو ہم آہنگ نہ کر سکنے کا دوسرا نام ہے ۔ یہی معاملہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ بڑے پیمانہ پر پیش آیا ہے ۔ جس دنیا میں وہ " ماں " بن کر رہ رہے تھے ، اچانک انھیں محسوس ہوا کہ وہ اس دنیا میں " ساس " بنا دیے گئے ہیں ۔ یہ تبدیلی بذاتِ خود کوئی برائی نہیں تھی ۔ وہ ایک فطری صورت حال تھی جو خود خداوندِ عالم کے قانون کے تحت پیش آئی ۔ مگر مسلمان چوں کہ اس تبدیلی کے ساتھ ذہنی موافقت نہ کر سکے اس لیے نئے نظام میں وہ " اپوزیشن " کا کردار ادا کرنے والے ، یا صحیح تلفظ میں پیراوئٹکیریکٹر (Paranoiac character) بن کر رہ گئے ۔
جس زمانہ میں بابری مسجد تحریک کی دھوم تھی ، میں نے ایک مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی ۔ وسیع مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی ۔ امام صاحب نے حسبِ معمول عربی خطبہ سے پہلے اردو میں ایک تقریر کی ۔ اس تقریر میں انھوں نے " شاعرِ اسلام " کے بلند بانگ اشعار سنائے ، اور " اکابرِملت " کے شاندار فرمودات نقل کیے ۔ اور پھر پُر جوش طور پر کہا :
یہ بت پرست ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں ، ہم نے ایک ہزار سال تک ان کے اوپر حکومت کی ہے اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ کیا ہے ۔ ان کا مسئلہ کسی دوسرے کے ظلم کا مسئلہ نہیں ، ان کا مسئلہ در اصل وہ غلط ذہن ہے جو ان کے اپنے رہنماؤں نے ان کے اندر پیدا کیا ہے ۔ مسلمان داعی الی اللہ ہیں ۔ مسلمانوں کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ ان کے اندر داعیانہ نفسیات کو ابھارا جائے ۔ مگر ہمارے رہنماؤں نے انتہائی مجرمانہ طور پر یہ کیا کہ انھوں نے مسلمانوں کے اندر حاکمانہ نفسیات کو ابھارا ۔ اسی غلط رہنمائی کا نتیجہ وہ سب چیزیں ہیں جن کو آج ہم مسلمانوں کی بربادی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں ۔
موجودہ زمانہ میں ایک طرف مغل سلطنت ٹوٹی ۔ دوسری طرف عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا ۔ اس کے بعد بے شمار لوگ مسلمانوں کو رہنمائی دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ مگر ان تمام لوگوں نے ایک ہی مشترک غلطی کی ۔ ان میں سے کسی شخص نے بھی ایسا نہیں کیا کہ وہ قرآن وسنت کی روشنی میں صورتِ حال کا گہرا مطالعہ کرے اور اس کے مطابق مسلمانوں کو صحیح رہنمائی دے ۔ ہر ایک نے بس یہ کیا کہ ایک یا دوسرے انداز میں ماضی کی سیاسی کہانیاں سنانے لگا ۔ ہر ایک کے پیغام کا خلاصہ وہی تھا جو ان کی تقلید میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues