میوات کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۱
میوات کا سفر
1964 میں جب میں دہلی آیا تو ”میوات“ کا ایک افسانوی تصور میرے ذہن میں تھا۔ یہ خواہش تھی کہ وہاں چل کر خود اپنی آنکھ سے دیکھا جائے کہ میوات کیا ہے۔ پہلی بار میں 1969 میں میوات گیا اور وہاں 24 گھنٹے گزارے۔ اس کے بعد اگلے دس سال کے عرصہ میں بار بار میوات کا سفر ہوتا رہا۔
اب کچھ لوگوں کا مشورہ ہوا کہ ان پچھلے سفر ناموں کو اکٹھا کر کے انھیں ایک کتاب کی صورت میں شائع کر دیا جائے۔ ان سفر ناموں کو دوبارہ مرتب کرتے ہوئے خیال آیا کہ یہ اسفار پندرہ سال پہلے کے زمانہ میں پیش آئے تھے ۔ ضرورت محسوس ہوئی کہ ایک بار اور میوات کے علاقہ کا سفر کر لیا جائے تاکہ میرا مشاہدہ مطابق حال ہو جائے ۔ اس کے مطابق میوات کا زیر تذکرہ سفر ہوا۔ یہ سفر میں نے بالقصد بذریعہ بس کیا تاکہ میں عام میواتیوں کو ان کے اپنے ماحول میں دیکھ سکوں اور زیادہ قریب سے میوات کا مشاہدہ کر سکوں۔
اس سفر میں مولانا عبد الرحیم بڑیڈوی میرے ساتھ تھے۔ ان سے میں نے مقصد سفر کا ذکر کیا تو انھوں نے مسکرا کر کہا: ”میوات میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ پندرہ سال پہلے آپ نے میواتیوں کو جس حال میں دیکھا تھا ، وہیں آج بھی وہ پڑے ہوئے ہیں! “ سفر کے بعد میں نے محسوس کیا کہ واقعی ان کا بیان صحیح تھا۔ میوات کے دوسرے فرقوں کے لیے زمین حرکت میں ہے مگر میواتیوں کے لیے زمین بدستور رکی ہوئی ہے ، میواتیوں کے لیے وہ حرکت نہیں کرتی۔ ایک صاحب نے بس کا تازہ لطیفہ بتایا ۔ ایک عمر رسیدہ میوتی بس میں داخل ہوئی ۔ وہ بس کے اندر ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ کہاں بیٹھے۔ ایک مسافر نے ازراہ تفریح ڈرائیور کی سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو وہ سیٹ خالی ہے، اس پر بیٹھ جا۔ میوتی اپنی گٹھری لیے ہوئے وہاں پہنچی اور ”خالی سیٹ“ پر بیٹھ گئی ۔ کچھ دیر میں ڈرائیور اندر داخل ہوا۔ ”عورت تو یہاں کہاں بیٹھ گئی۔ یہاں سے تو میں بیٹھ کر گاڑی چلاؤں گا! “ ڈرائیور نے کہا۔ میوتی نے نہایت اطمینان کے ساتھ اپنی گٹھری سنبھالتے ہوئے جواب دیا : میں تو چونکہ بھی بیٹھی ہوں، تو کہیں اور سے چلا لے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues