Al-Risala · October 1988 · page 30

حاکم نہیں داعی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۰

کرنے کا کام

مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کے لیے اس وقت جو کام کرنا ہے ، اس کو تین عنوانات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے ــــــــ تزکیہ افراد ، احیاءِ دعوت ، اور تعمیر ملت ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ طول آمد کے بعد قساوت پیدا ہو جاتی ہے (الحدید ۱۶) یعنی بعد کی نسلوں میں اسلام زندہ شعور کی سطح پر باقی نہیں رہتا بلکہ بے حسی کی سطح پر پہنچ کر ٹھہر جاتا ہے جس کا دوسرا نام جمود ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ ایمان و اسلام کو دوبارہ ان کے زندہ شعور کا حصہ بنایا جائے ۔ ایمان کی بجھی ہوئی راکھ کو دوبارہ بھڑکتا ہوا شعلہ بنا دیا جائے ۔ اسی کو تزکیہ کہا گیا ہے۔

دوسری چیز دعوت ہے جو قرآن کے مطابق (حج ۷۸ ) امت مسلمہ کا نصب العین ہے اور جس کے اوپر اس کے عزت و غلبہ کا انحصار ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اس فریضہ کو فراموش کر چکے ہیں۔ آج کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں میں دعوت کا شعور پیدا کیا جائے اور ان کے درمیان دعوت الی اللہ کے کام کو زندہ کیا جائے ۔ اس کے بغیر وہ خدا کی مدد کے مستحق نہیں ہو سکتے ۔ تیسری چیز تعمیر ملت ہے جس کو قرآن میں قیام (النساء ۵ ) اور قوت (الانفال ۶۰) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی مادی اسباب کی فراہمی ۔ دنیوی اعتبار سے مسلمانوں کا اس قابل ہونا کہ وہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں خود کفیل اور باعزت زندگی گزار سکیں۔

بدقسمتی سے ہمارے لیڈروں نے مذکورہ تینوں کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی نہیں کیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین نے بظاہر بہت سی تحریکیں چلائی ہیں اور چلا رہے ہیں۔ مگر یہ تمام تحریکیں قیادت کی تعمیر کرنے والی ہیں نہ کہ ملت کی تعمیر کرنے والی ۔ الرسالہ کا مشن اسی خلا کو پر کرنے کے لیے جاری کیا گیا ہے ۔ جن لوگوں کا دل یہ گواہی دے کہ الرسالہ کا مشن ہی موجودہ زمانہ میں صحیح مشن ہے ، ان پر فرض کے درجہ میں ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ الرسالہ کو پھیلائیں۔ ایجنسی یا دوسرے طریقوں سے وہ اس کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کریں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page