Al-Risala · October 1988 · page 33

میوات کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۳

کر دیا۔ انھوں نے مسجد کی تعمیر مکمل کی اور یہاں حفظ قرآن کا مدرسہ قائم کیا۔ اب ماشاء اللہ یہ ایک آباد مسجد ہے۔ یہاں تقریباً ۵۰ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ حافظ کے علاوہ دوسرے علوم بھی بقدر ضرورت پڑھائے جا رہے ہیں۔ قاری عبد الرحمن ہزاروی اس کے روح رواں ہیں۔ میری فرمائش پر چند بچوں نے قرآن کے کچھ حصے پڑھ کر سنائے۔ بچے جب قرات کے ساتھ قرآن کی آیتیں پڑھ رہے تھے تو مجھے یاد آیا کہ نزول قرآن سے لے کر اب تک مسلسل ہر دور میں اور رات دن کے ہر لمحہ میں امت اسی طرح قرآن کو پڑھتی اور سناتی رہی ہے۔ اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے حال کا رشتہ ماضی سے مل گیا ہے، جیسے آج کے قاری قرآن کے الفاظ دور اول کے قاری قرآن سے ہم آہنگ ہو گئے ہیں۔ جیسے کہ یہ وہی پیغمبر عربی کی بلند کی ہوئی قدیم آواز ہے جو مجھ کو جدید نسل کی زبان سے سنائی دے رہی ہے۔

یہ وہ علاقہ ہے جہاں 1947 میں کافی مارکاٹ ہوئی تھی ۔ یہاں کے مسلمان سب ادھر اُدھر چلے گیے تھے۔ مسجد کو آباد کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان دوبارہ آ کر بنا شروع ہو گیے چنانچہ اب کافی مسلمان دوبارہ واپس آ کر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ اسی طرح دوسری قوموں کے لوگوں کی آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔

س کہا کی اس مسجد کے قریب ایک گور دوارہ ہے اور اس سے بالکل ملا ہوا مندر بھی ہے۔ یہاں جو بابا جی ہیں وہ روزانہ صبح کو فجر سے پہلے اپنی مذہبی ریکارڈنگ کرتے ہیں۔ مگر مسجد والوں نے بتایا کہ بابا جی ہماری عبادت کا اتنا احترام کرتے ہیں کہ جیسے ہی ہمارا موذن فجر کی اذان شروع کرتا ہے، وہ فوراً اپنی ریکارڈنگ بند کر دیتے ہیں۔

بابا جی ایسا کسی مطالبہ یا احتجاج کی بنا پر نہیں کرتے۔ بلکہ محض اپنے مذہبی جذبہ کے تحت کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے کی اچھی بات کا احترام کرنا ایک فطری جذبہ ہے جو خود خدا نے ہر آدمی کے اندر پیدا کر رکھا ہے۔ اگر انسان کو چھیڑا نہ جائے تو یہ فطری جذبہ کام کرے گا اور اپنے آپ دوسروں کے اچھے کام کے احترام کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ مگر جب ایک فریق دوسرے فریق کی انا کو جگا دے تو یہ پیدائشی جذبہ دب جاتا ہے۔ اس کے بعد انسان کی بھڑکی ہوئی انا کام کرنے لگتی ہے نہ کہ خدا کا پیدا کیا ہوا فطری جذبہ ___ حقیقت یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues

Printed page