میوات کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۴
ہر آدمی کے حصہ میں اس کے اپنے عمل کا انجام آتا ہے۔ اگر چہ وہ اس کو نادانی کی بنا پر فریق ثانی کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔
اس مسجد اور مدرسہ کو خوش قسمتی سے ایسے کارکن ملے ہیں جو نہایت سیدھے ہیں۔ جھگڑا لڑائی تو درکنار ، وہ احتجاج کی زبانی مہم بھی چلانا نہیں جانتے۔ وہ ماحول کے ہر خوش گوار یا ناخوش گوار واقعہ سے بے خبر رہ کر بس " قرآن کی خدمت " میں مشغول رہتے ہیں۔ اس سادہ مزاجی کا انھیں زبر دست فائدہ ملا ہے۔
مجھے یہاں بیت الخلاء جانے کا اتفاق ہوا۔ خلاف توقع میں نے دیکھا کہ دو نہایت صاف ستھرے بیت الخلاء " فلش " کے اصول پر بنے ہوئے ہیں۔ یہ میوات میں میرے لیے نئی چیز تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ دونوں حکومت کی مدد سے بنے ہیں۔ حکومت کی طرف سے دیہات کے سرکاری اسکولوں کے لیے اس قسم کی سہولت کا اعلان کیا گیا تھا۔ مدرسہ والوں نے بھی اپنے لیے دو بیت الخلاء کی درخواست دے دی۔ درخواست منظور ہوگئی ، اور یہ مسئلہ نہایت عمدہ طریقہ پر حل ہو گیا ۔ اسی طرح مدرسہ والوں کی درخواست پر حکومت کے محکمہ نے یہاں بجلی اور پانی بھی پہنچا دیا ہے ۔
مسجد اور مدرسہ کے کارکنوں کو دیکھیے تو وہ تقریباً بے زبان معلوم ہوں گے۔ مگر بعض حالات میں بے زبانی اس سے بھی زیادہ بڑی طاقت بن جاتی ہے جتنی کہ زبان دانی۔ کاماسے دوبارہ بذریعہ بس روانہ ہوئے۔ اور پہاڑی، گوپال گڑھ، سیکری وغیرہ ہوتے ہوئے گلپاڑہ پہنچے ۔ راستہ میں بس چند منٹ کے لیے میل کھیڑلا کے مدرسہ پر رکی۔ یہاں میں نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک شاندار مسجد اور مدرسہ وسیع رقبہ میں بنایا گیا ہے اور اس پر اسلامی مدرسہ کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ میں نے سوچا کہ جو لوگ " تعمیر " کے ان امکانات کو نہیں دیکھتے ، اور صرف " تخریب " کی خبریں سناتے رہتے ہیں وہ خود سب سے بڑے تخریب کار ہیں، خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو معمار قوم کیوں نہ سمجھ رہے ہوں ۔ گلپاڑہ میں بھی سڑک کے کنارے ایک بڑی جامع مسجد کھڑی ہوئی نظر آئی ۔ یہ مسجد بالکل نئی جگہ پر بنائی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ یہاں ایک مدرسہ بھی زیر تعمیر ہے۔ اس مسجد میں ہم
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues