میوات کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۷
ہوں۔ نوجوانوں کے ذریعہ ایک موقع پر مجھے یہ رپورٹ سن کر بہت خوشی ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ اپنا بیان صبر و اعراض کے عنوان پر نہ دیتے تو ہم نے طے کیا تھا کہ " ہم نوجوان لوگ پولیس چوکی کو جلائیں گے ۔ آپ کا بیان سن کر ہم اس ے رک گئے ۔ " یہ تمام فائد سے الرساله کی تحریروں کا نتیجہ ہیں ۔ ( رسید لوز ، پولونڈ )
۱۱۔ صدر اسلامی مرکز کی آواز میں ایک نیا کیسٹ تیار کیا گیا ہے۔ اس کا نام ہے " میدانِ عمل" اس میں دعوت کی اہمیت کو ایک گھنٹہ کی تقریر میں بتایا گیا ہے ۔
۱۲- جب سے تذکیر القرآن کی دونوں جلدیں شائع ہوئی ہیں ، اس کے انگریزی ترجمہ کی مانگ بڑھ گئی ہے ۔ مثلاً زینب شیخ محمد حبیب اثر نے نیوزی لینڈ سے لکھا ہے کہ کیا تذکیر القرآن کا ترجمہ انگریزی زبان میں ہو چکا ہے ۔ اس کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے ( ۲۹ جون ۱۹۸۸) اس سلسلہ میں اطلاع دی جاتی ہے کہ تذکیر القرآن کے انگریزی ترجمہ کا کام برابر جاری ہے ۔ تا ہم ابھی اس کا اندازہ نہیں ہے کہ اس کو کتابی صورت میں لانے کے لیے کتنی دیر لگے گی ۔ ۱۳۔ ایک صاحب اپنے خط ۲۰ جون ۱۹۸۸ میں لکھتے ہیں : ہم تمام بہن بھائی آپ کی تصنیفات اور الرساله کا بصد شوق مطالعہ کرتے ہیں ۔ ہم آپ کے خیالات سے پوری طرح متفق ہیں۔ اس بات کی کوشش پوری طرح جاری ہے کہ آپ کی ہر بات پر عمل ہو۔ آپ کی تصنیفات کے مطالعہ کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے خیالات جس کی زندگی میں نہیں ہیں وہ خدا کی اس زمین پر جینے اور زندہ رہنے کے لائق نہیں ۔ ( نیر ربانی ، بنگلور )
۱۴۔ ایک صاحب کراچی سے لکھتے ہیں : پہلے مجھے سوشلسٹ مفکرین اور غیر مسلم مفکرین کی کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا ۔ ایک روز اردو بازار میں اسی قسم کی کتابیں خرید رہا تھا کہ میرے دوست نے کہا کہ تم ان کتابوں پر اپنی رقم کیوں ضائع کرتے ہو ۔ چلو مولا نا وحید الدین صاحب کی کتابیں خرید و ۔ میں مولانا لوگوں سے بہت الرجک تھا۔ مگر دوست کے اصرار پر آپ کی دو کتابیں ، اللہ اکبر، اور راز حیات خرید لیا ۔ جب میں نے یہ کتابیں پڑھیں تو مجھے اپنے بھائیوں سے شکوہ پیدا ہوا کہ کسی نے مجھے نہیں بتایا کہ اسلام کیا ہے ۔ خدا کا شکر ہے کہ مجھے راہ بتلانے والا مل گیا ۔ اب میں اس کو سنہری اصول بنا کر اس پر عمل کروں گا، انشاء اللہ (مصطفیٰ کمال ، کراچی)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues