میوات کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۶
ہے ۔ اس زمانہ میں بالکل یہی باتیں مولانا ابوالکلام آزاد کے متعلق بھی عام تھیں ۔ جس کا نتیجہ اب بھگت رہے ہیں اور مزید بھگتیں گے ۔ (احسان احمد ۔ رام نگر چوک ، گوندیہ) ۶ - الرساله نومبر ۱۹۸۷ء صفحه ۴۵ پر ایک بدھسٹ پروفیسر کا تاثر الرساله کے بارہ میں شائع ہوا تھا۔ اس کو پڑھ کر جناب اسلم احمد (بتیا ، بہار) نے اپنی طرف سے سالانہ زر تعاون ادا کر کے ان کے نام الرساله انگریزی جاری کرایا ہے ۔ یہ نہایت مناسب طریقہ ہے ، خدا کے فضل سے بہت سے ساتھی ایسا کر رہے ہیں۔ دوسرے لوگوں کو بھی اپنی طرف سے غیر مسلم صاحبان کے نام انگریزی الرساله جاری کرانا چاہیے ۔ یہ دعوتی ذمہ داری کو ادا کرنے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ ہے۔ ۷ - الرساله کی مقبولیت اب خدا کے فضل سے اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس کے مخالفین بھی اس کو بطور واقعہ تسلیم کرتے ہیں ۔ ایک صاحب نے اپنے چار صفحہ کے خط (۱۱ جون ۱۹۸۸ء) میں الرساله پر سخت تنقید کی ہے ۔ اسی کے ساتھ وہ آخر میں لکھتے ہیں ؛ آپ کا پرچہ (الرسالہ) تو اب سنلائٹ صابن کی طرح چل چکا ہے ۔ آپ اس میں کچھ بھی لکھیں ، کیا ہوتا ہے (لوگ بہر حال اس کو پڑھیں گے) عبد الصبور ، امین ۔
۸ - ایک صاحب لکھتے ہیں : میں نے تذکیر القرآن کی دونوں جلدیں حاصل کیں ۔ ان کو پڑھ رہا ہوں ۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ حقیقت میں ایک ایسی تفسیر مجھے ملی ہے جو قرآن کے اصلی مقصد کو واضح کر رہی ہے ۔ (الطاف حسین انجینئر ، ملن ، کشمیر)
۹ - ایک صاحب اپنے خط ( ۲۶ جولائی ۱۹۸۸ء) میں لکھتے ہیں : میں بحمد اللہ شروع سے آپ کی تحریروں کو بغور پڑھ رہا ہوں ۔ اس مطالعہ سے مجھے نہ صرف دین کی بابت معلومات ہوئی بلکہ اس سے میرے اندر ایک نیا دینی مزاج بنا ہے ۔ میرے اندر ایک یقینِ کامل پیدا ہوا ہے ۔ پہلے میں ہر معاملہ میں اندیشوں میں گھرا رہتا تھا ۔ مطالعہ کے بعد میں اپنے آپ کو قناعت سے واقف ، صبر کرنے والا اور ایک یقین والا انسان پاتا ہوں جس میں نہ گھبراہٹ ہے اور نہ پریشانی ۔ (اقبال احمد ، مراد آباد)
۱۰- ایک صاحب اپنے خط ۲۵ جون میں لکھتے ہیں : بندہ بڑے شوق سے ہر ماہ الرساله پڑھتا ہے ۔ میں ایک مسجد میں پیش امام ہوں اور آپ کے مضامین اپنے وعظ میں بیان کرتا رہتا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1988 All issues