الٹا کام
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۸
بالمّدق اذ جاءه اليس في جهنّمَ جھوٹ باندھا۔ اور سچائی کو جھٹلا دیا جب کہ وہ مثويً للكافرين - والذى جاء بالصدق اس کے پاس آئی۔ کیا ایسے منکروں کا ٹھکانا جہنم وصدّق به اولئك هم المتقون ۔ میں نہ ہوگا۔ اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور لهم مايشاؤن عند ربهم ذلك جس نے اس کی تصدیق کی، یہی لوگ اللہ سے جزاء المحسنين - ڈرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے (الزمر ۳۲-۳۳) پاس وہ سب ہے جو وہ چاہیں گے۔ یہ بدلہ ہے نیکی کرنے والوں کا۔
اس دنیا میں سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے، اور سب سے بڑا جرم حق کا انکار کرنا ہے۔ آخرت میں جنت اور جہنم کا فیصلہ جس معیار پر ہوگا وہ یہی ہوگا کہ ایک شخص کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کو مانا یا اس کو نظر انداز کر دیا۔ حق کو نظر انداز کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کے بعد کوئی بھی دوسرا عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ اعتبار نہیں۔
آدمی کا اصلی اور حقیقی امتحان جہاں ہو رہا ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے اللہ کی خاطر اپنی انا کو توڑا یا نہیں۔ اس نے اللہ کے آگے اپنے عجز کا اقرار کیا یا نہیں۔ حق کا ظہور در اصل اسی امتحان کا لمحہ ہوتا ہے، اس دنیا میں حق کا ظہور چونکہ براہ راست خدا کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ کسی انسان کے ذریعہ ہوتا ہے ، اس لیے عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ سننے والا اس کو اپنے لیے ساکھ کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں حق کے آگے جھکا تو وہ ایک انسان کے سامنے جھکنے کے ہم معنی بن جائے گا۔ یہ احساس اس کے لیے رکاوٹ بن جاتا ہے۔
مگر ایسے مواقع پر جب آدمی جھکتا ہے تو وہ در حقیقت انسان کے آگے نہیں جھکتا۔ وہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ کیوں کہ وہ حق کی خاطر جھکا تھا نہ کہ کسی انسان کی خاطر۔ یہی وہ لوگ ہیں جو سب سے پہلے جنتوں میں داخل کیے جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues