دین اکابر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۹
دین اکابر
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ پہلے اہل کتاب ۷۲ فرقوں میں بٹ گئے، اور امت مسلمہ ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے گی ۔ ان میں سے ۷۲ فرقے آگ والے ہیں ، صرف ایک جنت والا ہے۔ یہ ایک فرقہ ’’الجماعت‘‘ ہے (ابوداؤد)۔ ’’الجماعت‘‘ سے کیا مراد ہے ، اس کی تشریح ترمذی کی روایت سے ہوتی ہے ۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول ، یہ الجماعت کون لوگ ہیں۔ آپ نے جواب دیا : جو اس ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں (مَنْ كَانَ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِی) فرقوں کی یہ کثرت کیسے ہوتی ہے ، اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے : انھوں نے اپنے علماء اور اپنے مشائخ کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا اور مسیح ابن مریم کو بھی ، حالاں کہ ان کو صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں (اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۖ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا ۚ، التوبه ۳۱) جب لوگ دین خدا پر ہوں تو دین ایک رہتا ہے۔ تمام لوگوں کے لیے دین کا ایک ہی ماخذ ہوتا ہے اور وہ قرآن ہے۔ لوگ ہر معاملہ میں قرآن کی طرف دیکھتے ہیں اور اس میں جو ہدایت ملے اس کو بے چون و چرا قبول کرلیتے ہیں۔ قرآن کا فیصلہ معلوم ہو جانے کے بعد وہ دوبارہ کوئی بحث نہیں نکالتے ۔ جن لوگوں میں یہ مزاج ہو ان کا دین ایک رہے گا۔
مگر جب قوم میں زوال آتا ہے تو اس کے اکابر اس کے لیے دین کا ماخذ بن جاتے ہیں ۔ اب قرآن کو یا تو ثواب اور تبرک کے طور پر پڑھا جاتا ہے یا اپنے اکابر کے دین کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ۔ خدا کی کتاب اصل رہنما کی حیثیت سے اپنا مقام کھودیتی ہے۔
خدا ایک ہے مگر اکابر ایک نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قوم جب دین اکابر پر پر ہوتی ہے تو اس کے یہاں فرقوں کی کثرت ہو جاتی ہے۔ ملت کا ’’۷۳ فرقوں‘‘ میں بٹنا در اصل ’’۷۳ اکابر‘‘ کے حلقوں میں تقسیم ہونے کا دوسرا نام ہے۔ مسلمان آج اسی دین اکابر پر ہیں۔ ان کے یہاں اکابر کے نام پر سرگرمیاں ہیں مگر خدا کے نام پر کوئی سرگرمی نہیں۔ اکابر کی بڑائی بیان کرنے سے ان کے زبان و قلم نہیں تھکتے مگر خدا کی بڑائی بیان کرنے والا ان کے درمیان کوئی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues