Al-Risala · November 1988 · page 10

موت کے بعد

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۰

موت کے بعد

غزوہ بدر میں ابو جہل جب مہلک زخم کھا کر گرا اور مرنے کے قریب ہوا تو اس نے پوچھا کہ مجھ کو مارنے والا کون ہے ی نے بتایا کہ انصار کے ایک نوجوان نے اس کو قتل کیا ہے۔ ابو جہل یہ سن کر بولا: لو غير اكار قتلنی (کاش کس کسان کے علاوہ کسی اور نے مجھ کو مارا ہوتا) ستمبر ۱۹۸۰ کا واقعہ ہے ۔ ڈنکرک (فرانس) کے ایک شخص نے خودکشی کرلی ۔ اس کا نام جوزف ریڈ فورڈ (Joseph Redford) تھا ۔ اس وقت اس کی عمر 62 سال تھی ۔ اس نے مہلک زہر کی خوراک کھالی ۔ اس کے بعد وہ مقامی کریکیٹ کلب میں گیا تاکہ مرنے سے پہلے اپنے کلب کے ساتھیوں سے آخری مصافحہ کرسکے۔ اس نے کلب کے ممبروں سے کہا :

Give me a whisky, I shall be dead in half an hour. مجھ کو شراب کا ایک گلاس دو۔ آدھ گھنٹہ کے بعد میں مر جاؤں گا (ہندوستان ٹائیمس، نئی دہلی ۱۹ ستمبر ۱۹۸۰)

اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ انسان موت کو بس ”خاتمہ“ کا ایک معاملہ خیال کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ کچھ دن دنیا میں رہ کر ہمیشہ کے لیے مٹ جانے کا نام موت ہے۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ جب وہ مرے تو عزت اور سکون کے ساتھ مرے۔ اس کے مردہ جسم کے اوپر مقبرہ کی صورت میں ایک شاندار یادگار قائم ہو جو موجود لوگوں کو ختم ہوتے والے انسان کی عظمت یاد دلاتی رہے۔

مگر یہ سخت ترین قسم کی غلط فہمی ہے۔ موت، آدمی کی زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ آدمی کی زندگی کے ایک نئے اور طویل تر دور کا آغاز ہے۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو ”قاتل “ کا حسب نسب معلوم کرنے کے بجائے وہ خود اپنے اعمال نامہ کو پڑھنے کی کوشش کرے ، وہ بے خودی کی خوراک کھا کر بے خبر ہونے کے بجائے یہ چاہے کہ وہ آخری حد تک با ہوش ہو جائے تاکہ کم از کم اپنے آخری لمحات کو ضائع ہونے سے بچا سکے۔

کتنا زیادہ فرق ہے بے خبر انسان اور با خبر انسان میں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page