Al-Risala · November 1988 · page 14

سورج پر خاک

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۴

سورج پر خاک

سلمان رشدی بمبئی میں پیدا ہوئے۔ اب وہ اپنی برطانی بیوی میریانے و گنس (Marianne Wiggins) کے ساتھ لندن میں رہتے ہیں۔ ان کی کئی انگریزی کتابیں (ناولیں) اس سے پہلے شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور کتاب آدھی رات کے بچے (Midnight's Children) ہے جو 1981ء میں شائع ہوئی ہے۔ حال میں ان کی ۴۵۴ صفحات کی ایک کتاب ایک برطانوی پبلشر وائکنگ پریس (Viking Press) نے شائع کی ہے جو لندن سے ۲۶ ستمبر ۱۹۸۸ء کو ریلیز کی گئی ہے۔ اس کتاب کا نام "شیطانی کلام" (The Satanic Verses) ہے۔ مصنف نے کتاب کا نام (شیطانی کلام) بطور خود اس کے اساسی کردار "محاو نڈ" (Mahound) کی نسبت سے استعمال کیا ہے جو کہ نعوذ باللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کتاب کا یہ نام کتاب کے مفروضہ کردار کے بجائے خود کتاب کے مصنف کے اوپر زیادہ صحیح طور پر چسپاں ہوتا ہے۔

سلمان رشدی نے اپنے ایک بیان (ٹائمس آف انڈیا ۸ اکتوبر ۱۹۸۸) میں کہا ہے کہ یہ کتاب مذہب اور الہام کے بارے میں ایک سیکولر آدمی کا نقطہ نظر بیان کرنے کی ایک کوشش ہے: Its's an attempt to write about religion and revelation from the point of view of a secular person. مگر زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ وہ ایک سیٹانک پرسن (Satanic person) کے نقطہ نظر کو بیان کرنے کی کوشش ہے۔ کیوں کہ سیکولرزم، یا سیکولر انسان کا یہ مطلب کسی بھی سنجیدہ صاحب علم نے کبھی نہیں بتایا جس کا نمونہ سلمان رشدی نے اپنی مذکورہ کتاب میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایک انتہائی بیہودہ اور فحش قسم کا ناول ہے۔ جیسا کہ خود اس کے نام سے ظاہر ہے۔ اس میں حمزہ اور عائشہ وغیرہ کے نام تو بالکل اصل حالت میں درج کئے گئے ہیں ، البتہ پیغمبر کا نام محمد کے بجائے محاو نڈ (Mahound) لکھا گیا ہے۔ یورپ کے مسیحی علماء اور مستشرقین نے قدیم زمانہ میں اپنے جذبہ عناد کی تسکین کے لئے آپ کے نام کو طرح طرح

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page