سورج پر خاک
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱۵
سے بگاڑا تھا۔ انھیں میں سے ایک بگڑا ہوا نام وہ ہے جس کو سلمان رشدی نے انتہائی مجرمانہ طور پر اپنی کتاب میں استعمال کیا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نسل انسانی کی بزرگ ترین شخصیت ہیں۔ آپ کی ذات گرامی بلاشبہ پوری انسانیت کے لئے فخر کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی عظمت اور آپ کا تقدس اتنا زیادہ مسلم ہے کہ دنیا کے تمام سنجیدہ لوگوں نے متفقہ طور پر اس کا اقرار کیا ہے۔ آپ کا ایک خصوصی امتیاز یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو ابدی طور پر فتح وغلبہ کی نسبت عطا فرمائی ہے۔ چنانچہ قدیم عرب میں ہر قسم کی شدید ترین مخالفت کے باوجود آپ تمام قبائل کے اوپر مکمل طور پر غالب رہے۔ آپ کے زمانے کی دو طاقت ور ترین سلطنتیں (روم اور ایران) آپ سے ٹکرائیں مگر وہ خود پاش پاش ہو کر رہ گئیں۔ آپ کے ظہور کے بعد یہودی اور عیسائی ساری دنیا میں آپ کے دشمن ہوگئے، مگر وہ آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے۔ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کی مسیحی اقوام نے متحدہ طور پر یہ کوشش کی کہ وہ آپ کی تصویر کو بگاڑیں اور آپ کی تاریخ کو بالکل مسخ کر ڈالیں ۔ مگر ہزار برس تک اپنی ساری طاقت خرچ کرنے کے باوجود ان کی کوششیں صدی صد نا کام ہوگئیں۔ یہاں تک کہ سائنس کے زیر اثر خود علم انسانی میں وہ انقلاب آیا جس نے آپ کے معاندین کے پیدا کردہ لٹریچر کو غیر حقیقی قرار دے کر رد کر دیا۔ خود مسیحی طبقہ کی بعد کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے اپنی ابتدائی نسلوں کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ان میں ٹامس کارلائل پیدا ہوا جس نے آپ کو تمام پیغمبروں کا ہیرو قرار دیا 1840) ان کے درمیان سے مائیکل ہارٹ اٹھا جس نے یہ اعلان کیا کہ محمد تاریخ کے واحد سب سے بڑے انسان تھے (۱۹۷۸ء) وغیرہ۔ جو ہستی اتنی عظیم ہو اور جس کی بڑائی ایسا مسلمہ واقعہ بن چکی ہو، اس کے خلاف کتاب لکھنا یا اس کی شان میں برے کلمات اپنی زبان سے نکالنا یقیناً ایسا ہی ہے جیسا سورج کے اوپر خاک ڈالنا۔ جو شخص سورج کے اوپر خاک ڈالنے کی کوشش کرے وہ خود اپنے منھ میں خاک ڈال رہا ہے، وہ خود اپنے آپ کو باطل ثابت کر رہا ہے۔
کتا اگر ہاتھی کے اوپر بھونکے تو ہاتھی کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ کتے کی بھونک کی
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues