Al-Risala · November 1988 · page 44

My community, right or wrong

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۴

نے کہا :

Nothing-I repeat, nothing-is more damaging to our nationhood and our future than the cancer of communalism. India will survive as a secular India or not at all. کوئی چیز، میں بہت تکرار کہتا ہوں کہ کوئی چیز ہماری قومیت اور ہمارے مستقبل کے لئے اتنا نقصان دہ نہیں ہے جتنا کہ فرقہ واریت کا سرطانی - ہندوستان یا تو سیکولر ہندوستان کے طور پر زندہ رہے گا یا وہ سرے سے مٹ جائے گا (ٹائمز آف انڈیا ، ۲۳ مئی ۱۹۸۷ء)

یہ فسادات بتاتے ہیں کہ اس ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں نے حقیقت پسندی کو کھو دیا ہے ، اور جو لوگ حقیقت پسندی کو کھو دیں ان کا انجام اس دنیا میں بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ تمام کے تمام ہندو یا تمام کے تمام مسلمان فسادی ہو گئے ہیں۔ اس قسم کا فساد کرنے والے ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں اور یقینی طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں میں بھی وہ کم تعداد ہی میں ہیں۔ مگر اصل المیہ یہ ہے کہ فسادی لوگ جب فساد کرتے ہیں تو بقیہ لوگ ان کا ہاتھ نہیں پکڑتے۔ بلکہ فوراً اس کو قومی مسئلہ بنا کر اپنی قوم کے فسادیوں کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ یورپ کے لوگوں نے وطن پرستی کا یہ کلمہ وضع کیا تھا کہ میرا ملک، خواہ وہ حق پر ہو یا نا حق پر ہو : My Country, right or wrong ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے معمولی ترمیم کے ساتھ اس کو اس طرح اپنا لیا ہے کہ میرا فرقہ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط :

My community, right or wrong

چنانچہ ہر فساد کے بعد یہ ہوتا ہے کہ مسلم رہنما یک طرفہ طور پر ہندوؤں کو برا بھلا کہنا شروع کرتے ہیں اور ہندو رہنما ایک طرفہ پر مسلمانوں کو ۔ ان میں کوئی بھی نہیں جو خود اپنی قوم کا محاسبہ کرے ۔ اسی کا نام فرقہ پرستی ہے اور اس فرقہ پرستی نے ملک کو تباہی کے کنارے پہنچادیا ہے۔ میرا اٹھ ایک چیتا دینی ہے ۔ مسلمانوں کے لئے ، ہندوؤں کے لئے اور سارے ملک کے لئے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page