Cost of a riot
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۳
پہنچا۔
دہلی ٹریڈ ایسوسی ایشن کے وائس پریذیڈنٹ مٹر موہر لال کمار نے رپورٹر کو بتایا کہ کرفیو کے دنوں میں پرانی دہلی کی ۳۰ ہزار سے زیادہ دکانیں بندر ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بجلی کاغذ، سونا چاندی، لوہے کا سامان، رنگ، بساطہ، غلہ، کپڑا وغیرہ کے تھوک کاروبار پر اثر پڑا۔ اور مجموعی طور پر تقریباً ۵۰ کروڑ روپیہ روزانہ کے کاروبار کا نقصان ہوا۔ مسٹر پی راج گوپال نے اس تجارتی نقصان کو ایک جزیرہ امید (Island of hope) قرار دیا ہے۔ انھوں نے ایک مضمون (انڈین ایکسپریس یکم جون، ۱۹۸۷) میں کہا ہے کہ بہت سے مقامات پر کاروبار میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا ایک دوسرے پر انحصار (Interdependence) فساد کے خلاف ایک روک کا کام کرے گا۔ حالیہ فساد کے بعد ہندو صاحبان کے نقطہ نظر میں تبدیلی کا سبب غالبً یہی واقعہ ہے۔
مسٹر پی آر راج گوپال سنٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) میں تھے۔ وہ اس سے ڈائرکٹر جنرل (D.G.) کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے: Communal Violence in India (1987)
مسٹر راج گوپال نے اپنے طویل تجربات کی روشنی میں فرقہ وارانہ فسادات پر ایک مضمون شائع کیا ہے جو انڈین ایکسپریس (۲۳ مئی، ۱۹۸۷) میں چھپا ہے۔ اس مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ میں اس ملک کے فرقہ وارانہ فسادات کا براہ راست مشاہد ہوں ۔ میرا یقین ہے کہ ہر بار جب کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنا ہمارے امیدوں اور خوابوں والے ہندوستان کو :
Every successive communal riot deals a body blow not so much to the Hindus or the Muslims but to the India of our hopes and dreams. مسٹر راج گوپال کی یہ بات صد فی صد درست ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات جو ۱۹۴۷ سے لے کر آج تک مسلسل جاری ہیں، ہندوستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ میرٹھ اور دہلی کے حالیہ فساد کے بارہ میں بیان دیتے ہوئے وزیر اعظم راجیو گاندھی
‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues