Al-Risala · November 1988 · page 47

Building bridges with the people of Pakistan

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴۷

اس کا عنوان تھا : قربانی کا تصور اسلام میں ۔

۱۱- اردو اکادمی دہلی نے کچھ اردو کتابوں پر انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان میں صدر اسلامی مرکز کی کتاب "خاتونِ اسلام " بھی شامل ہے ۔ اردو اکادمی نے اس کتاب پر تین ہزار روپیہ انعام کا فیصلہ کیا ہے ۔ واضح ہو کہ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ختم ہو چکا ہے اور دوسرا ایڈیشن تقریباً سو صفحات کے اضافہ کے ساتھ شائع ہو گیا ہے ۔ مذکورہ کتاب پر یہ انعام ۱۳ستمبر ۱۹۸۸ کو ایک خصوصی تقریب میں اردو اکادمی کے چیرمین مسٹر رمیش بھنڈاری (لیفٹنٹ گورنر دہلی) نے پیش کیا ۔ یہ تقریب کمانی آڈیٹوریم نئی دہلی) میں منعقد کی گئی ۔

۱۲- الرسالہ کا تعمیری اور حقیقت پسندانہ مشن خدا کے فضل سے عمومی مقبولیت حاصل کرتا جا رہا ہے ۔ اس سے ان لوگوں کی صفوں میں کھلبلی پیدا ہو گئی ہے جو خطابت اور لفاظی کے ذریعہ قوم کے اندر قیادت کا مقام حاصل کیے ہوئے تھے ۔ چنانچہ انھوں نے الرسالہ کے مشن کو نا کام کرنے کے لیے بے بنیاد پر وپیگنڈے شروع کر دیے ہیں ۔ اس کی ایک مثال ایک حلقہ قیادت کا پندرہ روزہ پرچہ ہے ۔ اس نے ہمارے بارہ میں ان بالفاظ کے ساتھ ایک جوابی مضمون شائع کیا ہے کہ " بعض اہل قلم ہندوستانی مسلمانوں کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ پہلی نشست پر بیٹھنے کے لیے راضی ہو جائیں ۔ دوسرے درجہ کا شہری ہونے پر قناعت کر لیں ۔ پارسیوں اور مارواڑیوں کی طرح زندگی گزاریں " (۱۰ اگست ۱۹۸۸) بو کھلا ہٹ میں مضمون نگار کو یاد نہ رہا کہ وہ اپنی تردید آپ کر رہے ہیں ۔ پارسی اور مارواڑی ، الفاظ دیگر ٹاٹا اور برلا ، کیا اس ملک میں دوسرے درجہ کے شہری ہیں اور وہ پہلی نشست پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ حتی کہ وزیر اعظم راجیو گاندھی باپ کی طرف سے پارسی ہیں ، کیا وہ اس ملک میں دوسرے درجہ کے شہری ہیں اور کیا ان کو بھی پہلی نشست پر جگہ ملی ہے ۔ اس قسم کی جھوٹی تنقیدیں خود نام نہاد قائدین کے علمی اور فکری افلاس کا پردہ کھول رہی ہیں ۔ وہ کسی بھی درجہ میں الرسالہ کے مشن کی صداقت کی تردید نہیں کرتیں ۔ "خاتونِ اسلام " کا نیا ایڈیشن ۲۸۰ صفحات پر چھپ کر آگیا ہے ۔ ڈیڑھ سو سال سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اسلام عورت کا رتبہ گرا تا ہے ۔ اس کتاب میں پہلی بار جدید علمی اور استدلالی معیار پر اس کا جواب دیا گیا ہے ۔ جدید اسلامی لٹریچر میں یہ اپنے موضوع پر بالکل منفرد کتاب ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1988 All issues

Printed page