... اررس
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۲
دو طریقے
ایک دیہاتی آدمی مدینہ آیا۔ وہ مسجد نبوی میں داخل ہوا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ موجود تھے۔ وہ مسجد کے اندر کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ لوگوں نے اس کو تنبیہ کرنا چاہا مگر آپ نے منع فرما دیا۔ آپ نے کہا کہ دیہاتی کو چھوڑ دو اور ایک ڈول پانی لاکر وہاں بہا دو ۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، ابوداؤد، مؤطا)
دیہاتی پر اس واقعہ کا بہت اثر پڑا۔ اپنے قبیلہ میں واپس جاکر اس نے لوگوں سے پورا قصہ بیان کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے یہ حرکت کی کہ عبادت خانہ میں پیشاب کر دیا۔ مگر خدا کی قسم، محمد نے مجھ پر غصہ نہیں کیا۔ انھوں نے مجھے نہیں جھڑکا ( واللہ ما قهرنى محمد والله ما زجرنی محمد) قبیلہ کے لوگ یہ بات سن کر بہت متاثر ہوئے ۔ حتیٰ کہ سارا قبیلہ دین اسلام میں داخل ہو گیا۔ اب موجودہ زمانہ کا واقعہ لیجیے۔ ہولی کا دن تھا۔ ہندو نوجوانوں کی ایک پارٹی ہولی کھیلتی ہوئی شہر کی ایک سڑک سے گزر رہی تھی۔ راستہ میں ایک مسجد آگئی ۔ ایک نوجوان نے جوش میں آکر مسجد کی طرف پچکاری ماری۔ مسجد کی ایک دیوار پر ہولی کے رنگ کے چھینٹے پڑگئے۔ مسجد کی دیوار پر ہولی کا رنگ دیکھ کر وہاں کے مسلمانوں کو غصہ آگیا۔ وہ ہندو نوجوانوں سے لڑگئے مار پیٹ کی یہ خبر پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ ہر طرف فساد بھڑک اٹھا۔ مسلمانوں نے دیوار پر رنگ کو برداشت نہیں کیا تھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شہر کی سڑکیں ان کے خون سے رنگین کر دی گئیں ۔ اور ان کے گھروں اور دکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا ۔
دو واقعہ میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدائی دین پر تھے ۔ اور موجودہ زمانہ کے مسلمان قومی دین پر ہیں۔ جو لوگ خدائی دین پر چلیں، ان کو فرشتوں کی مدد حاصل ہوتی ہے ۔ ان کے لیے دلوں کے بند دروازے کھولے جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جو قومی دین پر چلیں۔ ایسے لوگوں کا ساتھی صرف ان کا نفس ہوتا ہے ۔ ان کا عمل ضد اور نفسانیت کی آگ بھڑکاتا ہے ۔ وہ دوسروں کو نفرت کا تحفہ دیتے ہیں، اس لیے دوسروں کی طرف سے بھی انھیں نفرت اور انتقام کا تحفہ دیا جاتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues