Al-Risala · December 1988 · page 3

فتح بغیر جنگ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳

فتح بغیر جنگ

امریکی ہفتہ وار ٹائم (۴م جولائی ۱۹۸۸) کی کور اسٹوری جاپان سے متعلق ہے۔ اس کا عنوان بامعنی طور پر یہ ہے کہ کیا ایک اقتصادی دیو ایک عالمی طاقت بن سکتا ہے : Super Japan: Can an economic giant become a global power? ۱۹۴۵ میں امریکہ نے جاپان کے اوپر فتح کی خوشی منائی تھی ۔ آج مفتوح جا پان خود امریکہ کے او پر فتح حاصل کر رہا ہے ۔ ابتداءً یہ فتح صرف اقتصادی معنی میں تھی ، مگر اب وہ دوسرے دائروں میں وسیع ہوتی جا رہی ہے ۔ امریکہ آج سب سے بڑا قرضدار ملک ہے جس کے اوپر 400 بلین ڈالر کا خارجی قرضہ ہے ۔ اس کے برعکس جاپان سب سے بڑا دائن ملک ہے جس نے دنیا کو ۱۴۰ بلین ڈالر قرض دے رکھا ہے ۔ امریکہ میں آج کل کثرت سے ایسی کتا بیں چھپ رہی ہیں اور ایسے مضامین شائع ہو رہے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ امریکہ تیزی سے زوال کی طرف جا رہا ہے اور اس کے مقابلہ میں جاپان تیزی سے ترقی کا سفر طے کر رہا ہے ۔ ان میں سے ایک کتاب کا نام یہ ہے :

Prof. Paul Kennedy, The Rise and Fall of the Great Powers ٹائم کے مذکورہ شمارہ کو پڑھنے کے بعد اس کے قارئین نے اس کو بہت سے خطوط لکھے ۔ ان میں سے کچھ خط اس کی اگلی اشاعت (۲۵ جولائی ۱۹۸۸) میں شائع ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک خط پرنسٹن کے برائن مرسکی (Brian Mirsky) کا ہے ۔ انھوں نے اپنے مختصر خط میں لکھا ہے کہ جاپان کی اقتصادی کامیابی پر آپ کا مضمون اس کو بالکل واضح کر رہا ہے کہ اگرچہ امریکہ نے جنگ جیتی تھی مگر جاپان نے امن کو جیت لیا :

Your article on Japan's economic success makes it obvious that although the U.S. won the war, Japan won the peace. جاپان کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی دنیا میں امکانات کا دائرہ کتنا زیادہ وسیع ہے۔ یہاں ایک مفتوح اپنے فاتح کے اوپر غالب آسکتا ہے ، بغیر اس کے کہ اس نے فاتح سے جنگ کی ہو ، بغیر اس کے کہ اس کا اپنے فاتح سے کبھی ٹکراؤ پیش آیا ہو ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page