Al-Risala · December 1988 · page 4

دشمن سے سیکھنا

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۸، صفحہ ۴

دشمن سے سیکھنا

1949 میں جاپانیوں نے اپنے یہاں ایک صنعتی سیمینار کیا۔ اس سیمینار میں انھوں نے امریکہ کے ڈاکٹر ایڈورڈ ڈیمنگ (Dr Edward Deming) کو خصوصی دعوت نامہ بھیج کر بلایا۔ ڈاکٹر ڈیمنگ نے اپنے لکچر میں اعلیٰ صنعتی پیداوار کا ایک نیا نظریہ پیش کیا۔ یہ کوالٹی کنٹرول (Quality control) کا نظریہ تھا۔ (ہندوستان ٹائمز ۲۸ دسمبر ۱۹۸۶)

جاپان کے لیے امریکہ کے لوگ دشمن قوم کی حیثیت رکھتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے جاپان کو بدترین شکست اور ذلت سے دوچار کیا تھا۔ اس اعتبار سے ہونا یہ چاہیے تھا کہ جاپانیوں کے دل میں امریکہ کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکے۔ مگر جاپانیوں نے اپنے آپ کو اس قسم کے منفی جذبات سے اوپر اٹھالیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ امریکی پروفیسر کو اپنے سیمینار میں بلائیں۔ اور اس کے بتائے ہوئے نسخہ پر ٹھنڈے دل سے غور کرکے اس کو دل و جان سے قبول کر لیں ۔

جاپانیوں نے امریکی پروفیسر کی بات کو پوری طرح پکڑ لیا۔ انھوں نے اپنے پورے صنعتی نظام کو کو الٹی کنٹرول کے رخ پر چلانا شروع کیا۔ انھوں نے اپنے صنعت کاروں کے سامنے بے نقص (Zero-defect) کا نشانہ رکھا ۔ یعنی ایسی پیداوار مارکیٹ میں لانا جس میں کسی بھی قسم کا کوئی نقص نہ پایا جائے۔ جاپانیوں کی سنجیدگی اور ان کا ڈیڈیکیشن (Dedication) اس بات کا ضامن بن گیا کہ یہ مقصد پوری طرح حاصل ہو۔ جلد ہی ایسا ہوا کہ جاپانیوں کے کارخانے بے نقص سامان تیار کرنے لگے ۔ یہاں تک کہ یہ حال ہوا کہ برطانیہ کے ایک دکاندار نے کہا کہ جاپان سے اگر میں ایک ملین کی تعداد میں کوئی سامان منگاؤں تو مجھ کو یقین ہوتا ہے کہ ان میں کوئی ایک چیز بھی نقص والی نہیں ہوگی۔ چنانچہ تمام دنیا میں جاپان کی پیداوار پر صدفی صد بھروسہ کیا جانے لگا۔

اب جاپان کی تجارت بہت زیادہ بڑھ گئی ۔ حتیٰ کہ وہ خود امریکہ کے بازار پر چھا گیا جس کے ایک ماہر کی تحقیق سے اس نے کوالیٹی کنٹرول کا مذکورہ نسخہ حاصل کیا تھا ۔

اس دنیا میں بڑی کامیابی وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو ہر ایک سے سبق سیکھنے کی کوشش کریں ، خواہ وہ ان کا دوست ہو یا ان کا دشمن۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1988 All issues

Printed page